
کراچی : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ملک کے خلاف بہت بڑے پیمانے پر بین الاقوامی سازش ہوئی، میں کسی ملک کے خلاف نہیں ہوں، نہ اینٹی امریکا ہوں، نہ اینٹی بھارت، نہ اینٹی یورپ ہوں۔ دوستی سب سے چاہتا ہوں مگر غلامی کسی کی نہیں چاہتا، میں دنیا میں انسانیت کے ساتھ ہوں لوگوں نے کہا میری جان کو خطرہ ہے، میری جان سے زیادہ پاکستان کو خطرہ ہے، میری جان ضروری نہیں، ملک کی آزادی ضروری ہے، پاکستان کے خلاف سازش، پاکستان کو غلام رکھنے کی سازش ہوئی ہے۔عمران خان نے کہا کہ تین چار ماہ پہلے امریکیوں نے ہمارے لوگوں سے ملنا شروع کیا، ہمارے منحرف لوگوں سے بھی امریکی سفارت کاروں نے ملنا شروع کردیا تھا، انہوں نے کہا کہ میں امریکی سازش کے خلاف نکلنے والوں کو سلام پیش کرتا ہوں، اگر یہ سازش کامیاب ہوگئی تو کوئی وزیراعظم امریکی دھمکی کے سامنے کھڑا نہیں ہوگا، جنرل مشرف نے کتاب میں لکھا کہ امریکا نے دھمکی دی کہ ہم آپ کو پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے، ایک دھمکی آئی اور چاروں شانے چت ہوگئے، قبائلی علاقوں کو اجاڑ دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ 400 ڈرون حملے امریکا نے کیے، شادیوں پر، مدرسوں پر، بچوں پر ڈرون حملے کیے، مجھ سے امریکا کو کیا گلہ ہے، میں نے امریکا کا کیا بگاڑا ہے؟ میں نے امریکا کی جنگ میں شرکت سے انکار کردیا، میں نے امریکا کو ایبسلوٹلی ناٹ کہا، ملک کا وزیراعظم، ملک کے باپ کی جگہ ہوتا ہے۔ سابق وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل مشرف نے امریکا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، کونڈا لیزا رائس نے لکھا کہ ہم نے بے نظیر اور مشرف کو اکھٹا کیا، تب زرداری اور نواز شریف کو مشرف نے این آر او دیا، سارا وقت اپوزیشن نے این آر او کے لیے مجھے بلیک میل کرنے کی کوشش کی۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ شہباز شریف کے اوپر چالیس ارب روپے کرپشن کے مقدمات ہیں، اگر شہباز شریف مغربی ملک میں ہوتا تو اس کو چپڑاسی بھی نہ رکھ سکتے، اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے کہ ضمانت پر رہا ایک شخص کو وزیراعظم بنا دیا رات 12 بجے عدالتیں کھلنے کی بات میرے دل میں رہے گی، سپریم کورٹ کو کم سے کم اس مراسلے کی تحقیقات کروانی چاہیے تھی، انہوں نے کہا کہ عزت ماب ججز، جب کھلی منڈی لگی تھی، کیا آپ کو ایکشن نہیں لینا چاہیے تھا؟ میں بڑی عزت سے پوچھتا ہوں کہ کیا سپریم کورٹ کو از خود نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا.


































