Sun Oct 18, 2026

خطے میں امن کے لیے تمام محاذوں پر جنگ کا خاتمہ ضروری ہے، ایرانی نائب وزیر خارجہ امریکی بحریہ کا پاکستانی سرزمین سے ایران کے خلاف کارروائی کا دعویٰ بے بنیاد ہے، وزارت اطلاعات پاکستان نے گبد ریمدان بارڈر پر تجارتی سرگرمیاں معطل کردیں ایران کا انصار اللہ اور سعودی عرب میں ثالثی کی پیشکش کا اعادہ بی بی زینبؑ کا کردار، صبر، بہادری اور ثابت قدمی خواتین کیلئے مشعلِ راہ ہے، ولی امر مسلمین اسرائیل مغربی کنارے میں صیہونی بستیوں کا جبری قیام روکے، چینی وزیرخارجہ امریکا کو ایران کے خلاف کیے گئے مظالم پر سزا ملنی چاہیے، قالیباف یمنی فوج نے سعودی عرب کا جاسوسی اور جنگی ڈرون مار گرایا احمد الشرع کو دھمکی دیکر شام میں دروز برادری کا قتل رکوایا، نیتن یاہو یمن سے مکہ یا مدینہ پر حملے کا دعویٰ جھوٹ ہے، انصار اللہ ایران کی سخت دھمکی، دشمن کے مفادات اور اثاثے بھی نشانے پر ہوں گے امریکی فوج کے ایران کے خلاف ممکنہ حملوں کے لیے نئے منصوبے تیار صدارتی محل پر یمنی فوج کا میزائل حملہ، 2 سکیورٹی اہلکار ہلاک، متعدد زخمی ایران کیخلاف جنگ یورپ کو 100 ارب یورو سے زائد میں پڑ گئی، اسپین کے وزیرِاعظم کا بڑا انکشاف اختلاف رائے کا حق ختم کرنا معاشرے کے لیے خطرناک ہے، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس

روزانہ کی خبریں

فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے، آرمی چیف

راولپنڈی: آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے فیصلے پر جھوٹے بیانیے کے ذریعے فوج کی سینئر قیادت کو نامناسب القابات سے پکارا گیا، اس کا جواب دینے کے لیے وسائل تھے مگر فوج نے حوصلے کا مظاہرہ کیا اور ملکی مفاد کی خاطر کوئی منفی بیان دینے سے اجتناب کیا۔ یوم دفاع و شہداء کی تقریب جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی جس میں اعلیٰ شخصیات ، سفارتکار، سول و عسکری حکام ، شہدا کے لواحقین اور غازی شریک ہوئے۔اس موقع پر اپنے خطاب میں آرمی چیف نے کہا کہ سانحہ مشرقی پاکستان فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی، فوج کی قربانی کا عوام نے اعتراف نہیں کیا، دنیا میں سب سے زیادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کرتی ہے لیکن اس کے عوام اسے بہت کم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، اس کے برعکس دن رات عوام کی خدمت میں مصروف پاک فوج پر بہت زیادہ تنقید کی جاتی ہے، اس کی بڑی وجہ 70 سال سے فوج کی سیاست میں مداخلت ہے، فوج کی سیاست میں مداخلت غیر آئینی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ فوج کا سب سے پہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے، فوج نے فروری میں فیصلہ کیا کہ آئندہ فوج سیاست میں مداخلت نہیں کرے گی، ہم اس پر سختی سے کاربند ہیں، مگر اس آئینی عمل کا خیرمقدم کرنے کے بجائے کئی حلقوں نے فوج کو شدید تنقید کانشانہ بناکر بہت نامناسب اور غیر شائستہ زبان استعمال کی۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ فوج پر تنقید شہریوں اور سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن الفاظ کا مناسب چناؤ کرنا چاہیے، جعلی جھوٹا بیانیہ بناکر ملک میں ہیجان پیدا کیا، اب اس جھوٹے بیانیے سے راہ فرار اختیار کی جارہی ہے، اعلیٰ فوجی قیادت کو غیر مناسب القابات سے پکارا گیا، فوجی قیادت کچھ بھی کرسکتی ہے، لیکن ملکی مفاد کیخلاف کوئی کام نہیں کرسکتی۔تمام فریقین ملکر ملک کو بحران سے نکالیں، آگے بڑھنا ہےتو عدم برداشت اور میں نہ مانوں کا رویہ ترک کرنا ہوگا۔

مزید پڑھیے

Most Popular