
حماس رہنما باسم نعیم نے کہا ہے کہ بین الاقوامی ثالثوں نے غزہ میں جنگ بندی پر حماس اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کر دیے ہیں۔ باسم نعیم نے ترکی میں ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ غزہ نسل کشی کے خاتمے اور اسرائیل کے زیر حراست فلسطینی قیدیوں کی رہائی کے لیے کوششیں دوبارہ شروع کر دی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں معاہدہ ہونے کی امید ہے لیکن حماس کو ابھی تک جنگ بندی کی ٹھوس اور مناسب نئی تجویز پیش نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر دوسرے فریق کا ارادہ ہوتو کسی معاہدے تک پہنچنا کوئی بڑا چیلنج نہیں ہے۔ نعیم نے کہا کہ حماس ان بنیادی مطالبات پر قائم ہے جو اس نے مذاکرات کے پچھلے دور کے دوران کیے تھے، جن میں مستقل جنگ بندی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلاء اور غزہ میں اندرونی طور پر بے گھر فلسطینیوں کے اپنے گھروں کو واپسی کا حق شامل ہے۔


































