
والدین کی ایک بڑی تعداد کو میٹرک اور او لیول کا فرق نہیں معلوم۔ بہت سے والدین فخریہ کہتے ہیں ہمارا بچہ تو او لیول کر رہا ھے۔
آج کل ” او لیول ” فیشن بنتا جا رہا ھے اسی لیے شھر میں ہزاروں ایسے اسکول وجود میں آ گۓ ہیں جو او لیول کے نام پر معصوم والدین کو لوٹ رہے ہیں اور ان سے بھاری بھاری فیسیں وصول کر رہے ہیں ، لیکن سچ پوچھیے تو انھیں خود یہ بھی نہیں معلوم کہ "او لیول” سے کیا مراد ھے۔
” او لیول ” سے مراد ordinary level ھے جبکہ” اے لیول ” سے مراد advance level ھے۔ او/اے لیول کا تعلق کیمبرج/آکسفورڈ بورڈ انگلینڈ سے ہے۔” او لیول ” کرنے کے بعد طالب علم ” اے لیول ” کرتے ہیں۔
اس طرح میٹرک اور او لیول برابر ہیں جبکہ اے لیول اور انٹر میڈیٹ برابر ہیں۔ انٹر یا اے لیول کرنے کے بعد یونیورسٹی میں داخلہ لیا جا سکتا ھے۔
جن طالب علموں نے مستقبل میں بیرون ملک پڑھنے جانا ھے انھیں "او لیول ” کو فوقیت دینی چاہیے اور جو طالب علم پاکستان کی جامعات میں اعلی تعلیم حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں انھیں میٹرک بورڈ کے تحت اپنی تعلیم جاری رکھنی چاہیے۔
مشاہدے میں یہ بات آئ ھے کہ پاکستانی جامعات میں کالج سے انٹر میڈیٹ کرنے والے طالب علموں کو ترجیح دی جاتی ھے۔
دونوں طرح کے سسٹم کے کورسز کے معیار میں فرق ھے۔ او لیول کا نصاب جامع اور میٹرک کے نصاب کے مقابلے میں کافی بہتر ھے۔
میٹرک دو سالوں پر مشتمل ھے۔ یعنی سات پرچے نہم جماعت میں اور سات ہی دہم جماعت میں ھوتے ہیں۔ لازمی مضامین میں انگریزی، سندھی ، مطالعہ پاکستان اور اسلامیات شامل ہیں۔
او لیول کے لازمی مضامین میں اردو، اسلامیات ، سوشل اسٹڈیز اور انگلش شامل ہیں۔
میٹرک کرنے کے لیے تین بار بورڈ کی فیس وصول کی جاتی ھے۔ جس میں نہم جماعت میں رجسٹریشن، پھر نہم کی امتحانی فیس اور اس کے بعد دہم کی امتحانی فیس شامل ہیں۔ کل فیس تقریباً سات سے آٹھ ہزار بنتی ھے۔
دوسری طرف او لیول کے ایک پرچے کی امتحانی فیس تقریباً 20 ہزار روپۓ ھے۔ دس پرچوں کی صرف امتحانی فیس ہی 2 لاکھ روپۓ بنتی ھے۔
میٹرک اسکولوں میں طالب علموں کی فیس پندرہ سو روپۓ سے سات ہزار روپۓ ماہانہ ھوتی ھے جبکہ او لیول اسکول کی فیس دس ہزار سے تیس ہزار روپۓ ماہانہ ھوتی ھے۔
میٹرک کے مضامین کے ٹیوٹر 1000 سے 3000 روپۓ ٹیوشن فیس ماہانہ وصول کرتے ہیں جبکہ او لیول کے ٹیوٹرز کی فیس 10 ہزارسے پچاس ہزار روپۓ ماہانہ ھوتی ھے۔
محنتی طالب علموں کو سسٹم سے کوئ فرق نہیں پڑتا۔ جنھیں پڑھنا ھوتا ھے وہ میٹرک سسٹم میں بھی پڑھ جاتے ہیں اور جنھیں نہیں پڑھنا ، او لیول سسٹم بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔
میں ایسے کئ طالب علموں کو جانتا ھوں جو” او لیول ” سسٹم کے تحت پڑھائ کرنے کے باوجود زندگی میں ناکام ہیں، جبکہ دوسری طرف ایسے کئ طالب علم بھی میری زندگی میں آۓ جو میٹرک سسٹم کے تحت تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک کامیاب وکامران زندگی گزار رہے ہیں۔


































