
ازدواج: ایک دینی شناخت
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی فرماتے ہیں:
عورت کی حیثیت بطورِ ایک دینی شناخت اُس وقت روشن ہوتی ہے جب نکاح کے کچھ اسرار اور ازدواج کے کچھ رموز صاحبِ وحی (رسول اکرم ص) کی زبانِ مبارک سے بیان ہوں۔
تب معلوم ہوتا ہے کہ عورت نہ تو مرد کی کھیل کا سامان ہے،
نہ ہی وہ کسی پر منحصر و محتاج ہے اور نہ ہی وہ ایک آلہ یا وسیلہ ہے۔ بلکہ عورت ایک مضبوط و پائیدار ستون (بنیانٍ مرصوص) کی مانند ہے جو مرد کو جہنم کی کھائی سے بچاتی ہے اسے انحراف سے محفوظ رکھتی ہے اور دونوں (شوہر و بیوی) کو ظلمت اور گمراہی کے خطرے سے نجات دلاتی ہے۔
یہ دونوں باہم فلاح، نیکی اور نجات کے راستے پر گامزن ہوتے ہیں اور گمراہی، فساد اور تباہی سے محفوظ رہتے ہیں۔


































