
آیت اللہ العظمیٰ جوادی آملی فرماتے ہیں:
آپ دیکھتے ہیں کہ جب بچوں کا کوئی گروہ مکتب یا نرسری میں کھیل رہا ہوتا ہے، تو وہاں شور بہت ہوتا ہے۔
اگر کوئی اجنبی شخص اُن میں سے کسی بچے کو آواز دے،
تو وہ بچہ کھیل میں مشغول رہتا ہے اور اُس کی طرف توجہ نہیں دیتا۔
لیکن جب اسی بچے کی ماں آتی ہے اور اُسے نام لے کر پکارتی ہے،
تو وہ فوراً پلٹ کر دیکھتا ہے کیونکہ یہ آواز اُس کے لیے مانوس (آشنا) ہوتی ہے،
یہ غیر کی نہیں بلکہ اپنی ہوتی ہے۔
پھر آیت اللہ جوادی آملی فرماتے ہیں:
قرآن کی آواز بھی ہماری فطرت کے لیے بالکل ایسی ہی مانوس اور آشنا ہے۔ یہ کوئی اجنبی بات نہیں،بلکہ ایسی صدا ہے جسے دل پہچانتا ہے،اور جب قرآن بولتا ہے، تو روح اسے قبول کرتی ہے۔


































