
اپنے بچوں کو *طعنہ* نہ دیں.
اپنے بچوں کو *ذلیل* نہ کریں.
اپنے بچوں کو *ماریں* نہیں.
ان کا احترام کریں ان کی بھی *عزت نفس* ہے ..جیسے آپ کی..
*کچن کی گرمی میں جل کر.*..
*گھر کے کاموں سے تھک ہار کر*…
*آپ اپنے بچے کو ماریں*…
*اس سے آپ کو کیسے سکون ملے گا* …؟
♾️ *جیسے آپ کے شوہر باہر کی گرمی میں جل کر، باس سے ڈانٹ کھا کر* …
*آپ کو ماریں تو ان کو کیسے سکون ملے گا*؟
یہ کون سا *سکون* پانے کا طریقہ ہے؟؟؟
یہ کونسا *تھکن اتارنے* کا طریقہ ہے؟؟؟
*مار کھا کر۔۔۔طعنے سن کر*۔۔۔
*آپ کی باتوں سے ذلیل ہو کر۔۔۔ بچہ ضدی ہو جائے گا* ۔۔۔
*بدتمیز* ہو جائے گا ۔۔۔یا۔۔۔ اس معاشرے کا ….
ایک *ناکارہ شخص* بن جائے گا ۔
*کیا آپ اپنی اولاد کو اس زمین پر بوجھ بنانا چاہتی ہیں*؟؟؟
مار کر اپنے بچے کو *اذیت* دے کر…
اس کو *احساس کمتری کا شکار* بنا کر …
کیا آپ *سکون* میں ہیں ؟؟؟
*کسی دوسرے انسان کو اذیت دے کر* …
*جو انسان سکون پاتا ہے*.
*کیا اس کو خود کو انسان کہنا چاہیے*؟؟؟
اپنے بچوں کو *محبت* دیں *اعتماد* دیں۔۔۔
ان کو *تحفظ کا احساس* دلائیں۔۔۔
آپ کے ہوتے ہوئے وہ خود کو *محفوظ* سمجھیں۔
بچے کی شرارتوں اس کی ناکامی پر اس کو ڈانٹنا.. اس کو *طعنہ* دینا اس کو *مارنا*، اس کی *ذہنی صحت* کو بہت ذیادہ متاثر کرتا ہے۔
اس وقت تو آپ سے *بدلہ* نہیں لیتا …
لیکن بڑا ہو کر وہ کسی نہ کسی طرح…
آپ سے بدلہ ضرور لیتا ہے۔
*اپنی اولاد کو اپنا دشمن مت بنائیں۔*
آپ اپنے بچے کو مارنے کے بعد ضرور پریشان ہوتی ہوں گی۔
لیکن بعد میں پریشان ہو کر خود کو ہی *اذیت* دے رہے ہیں.
*بچے کے دماغ پہ اثر ہو چکا ہے…پچھتانے کا فائدہ نہیں…وہ مار سے بگڑ چکا…آپ سے دور ہو گیا*.
*آپ اپنے بچوں پر اپنا غصہ اس لئے نکالتے ہیں*…
کے وہ *کمزور* ہیں… لیکن وہ ساری زندگی اتنے *کمزور* نہیں رہیں گے…وہ *بدلہ* لیں گے…
وہ آپ کو چھوڑ کر بدلہ لیں گے…یا پھر…
*بد تمیز* ہو جائیں گے…*تلخ* ہو جائیں گے.
*وہ ماں باپ کے گنہگار اس لئے ہوں گے.کیونکہ ماں باپ ان کے گنہگار تھے*.
*وہ ماں باپ کو ان کا حق اس لئے نہیں دیں گے. کیونکہ ان کے ماں باپ نے ان کا حق نہیں دیا.*
*اپنی اس عادت کو آج سے ، ، ، ابھی سے روک لیں* .
*بچے پر چیخنا چلانا اس کو مارنا سب کچھ روک دیں. اپنے بچوں پر محنت کرنے کے ساتھ ساتھ* …
خود پر *محنت* کریں…*اللہ سے دعا مانگیں*۔۔
ارادہ کریں کہ آج کے بعد اپنے بچے کو آپ نہیں ماریں گی.
اس پر *چیخیں چلائیں* گی نہیں …
آپ نے اس کو اس معاشرے کا ایک اچھا شخص بنانا ہے.
اپنے بچے کی *اچھی شخصیت* بنانی ہے.
اپنی اولاد کی اچھی *شخصیت چیخ چلا کر* ۔۔۔
*مار کر، ڈانٹ کر نہیں بنتی* .
*سختی سے بات کرنا ، اسے غلطی پر اس کو سزا دینا*۔
*غلط کام سے روکنا ٹوکنا یہ الگ باتیں ہیں* .
*اور اپنے بچوں کو ذلیل کرنا ایک الگ بات ہے…غلط بات ہے*.
*مار سے بچے کے اندر خوف اور ڈر پیدا ہو گا*.
*خوف ڈر اگر پیدا نہ ہوا تو تلخی اور ڈھٹائی پیدا ہو گی*.
*مار ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر کمزور کرے گی*.
♾ *آپ کی مار ان کو مارنا سکھائے گی*۔
اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اپنے دوستوں…
اپنے کزن کو ماریں گے ۔
*بچے سوچیں گے کہ ہر بات کا حل مار ہے* .
جیسے آپ اس کو مار دیا کرتی ہیں .
ویسے ہی وہ بھی …کبھی بھی ،کسی کو بھی…
مار دیا کریں گے.
*جیسے بچوں کو پیدا کرنا ایک مشکل کام ہے* .
ایسے ہی *بچے کو پالنا* اس کی *تربیت* کرنا …
*اس کی پرورش کرنا ایک مشکل ترین کام ہے*۔
اس کے لیے آپ کو *ہمت ،برداشت صبر* چاہیے۔
*صبر، تحمل ،برداشت* ۔۔۔۔
*ہمت ہمت اور ہمت*۔۔۔
اپنے بچوں کو کچھ سکھانے سے پہلے…
اپنے آپ کو *دن رات* اس بات کا درس دیتی رہیں.
بار بار بچے کو اچھا برا سکھانا پڑے گا.
*بار بار اس کو غلط بات سے روکیں ،ٹوکیں.*
بار بار اس کو *صحیح اور غلط میں تمیز سکھائیں*.
اتنی بار سکھائیں کہ وہ اس کے *دل اور دماغ* پر نقش ہو جائے…
*کہ کیا اچھا ہے اور کیا برا اور اس کو اچھا ہی کرنا ہے*۔۔۔
*ڈانٹ، مار ،غصہ۔۔۔یہ باتیں بچوں کو کبھی بھی صحیح نہیں سکھاتی ہیں* …
یہ بچوں کو *با ادب* بالکل بھی نہیں بناتی ہیں.
بار بار بچے آپ کو پیچھے لے جائیں گے .
جیسے ان کو کچھ آتا ہی نہیں…
انہوں نے کچھ سیکھا ہی نہیں …
*لیکن آپ پھر سے ہمت کرکے ان کو سکھائیں گی.*
*باربار سکھائیں گی*.
کیونکہ *عہدہ* ہمارا بڑا ہے ۔
*اجر ہمارا زیادہ ہے*۔
*جنت ہمارے پیروں کے نیچے ہے*
🤲🏻 تو دعا کرنا شروع کریں …اپنی ہر نماز کے بعد…
🤲🏻 *یا اللہ …!ہمیں اپنی اولاد کی اچھی پرورش کرنے کی توفیق دیں*.
*ہم اپنی اولاد کو ذلیل نہ کریں*۔۔۔
ان کو *طعنے* نہ دیں.
ہم ان کی *اچھی تربیت اور اچھی پرورش* کریں.
یا اللہ..! ہمیں اچھی ماں بننا نہیں آتا …
*اللہ آپ ہماری مدد کریں* …
ہمیں *اچھی مائیں* بنا دیں…
تا کہ ہماری اولاد اس زمین پر بوجھ نہ بنے.
اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کو *اچھا انسان …نیک مسلمان* بنا دیں۔
اللہ تعالیٰ ہماری اولاد کے نصیب بلند کر دیں.
عرش اور فرش والوں میں انکا ذکر خیر ہو۔۔۔


































