حمید معمول کے خلاف آج جلدی گھر آگیا تھا وہ بہت خوش تھا ابو نے اس سے پوچھا: حمید! آج کیوں جلدی آگئے ہو؟ ہر روز تم دیر سے آتے تھے۔ حمید نے کہا: ابا جان! بس میں سوار ہونے والوں کی قطار بہت لمبی تھی مجھے کام تھااور تھکاہوا بھی تھا صبر نہیں کر سکتا تھا۔ چالاکی سے قطار میں سب سے آگے جاکر کھڑا ہوگیا اور سب سے پہلے سوار ہوگیا اور گھر آگیا۔ اب میرے پاس بہت وقت ہے کھیل بھی سکتا ہوں اور اسکول کا کام بھی انجام دے سکتا ہوں۔ ابو نے کہا! بیٹے! تم نے اچھاکام نہیں کیا: چونکہ دوسرے لڑکے بھی گھر جاکر کام کرنا چاہتے تھے اس لئے تمہیں اپنی باری پر بس میں سوار ہونا چاہیے تھا اور اس شخص کی باری نہیں لینی چاہیے تھی جو قطار میں پہلے کھڑا تھا۔ اسے سب سے پہلے سوار ہونے کا حق ہوتا ہے۔ تم نے اس کا حق ضائع کیا ہے۔
حمید نے آہستہ سے کہا: میں صبر نہیں کر سکتا تھا۔ چالاکی کی اور جلدی سوار ہوگیا۔ انسان کو چالاک ہونا چاہیے۔ ابو نے حمید کی بات ان سنی کردی۔ چند دن کے بعدحمید روٹی لینے کے لئے روٹی والے کی دکان پر گیا۔ وہاں بہت بھیڑ (رش)نہ تھا صرف تھوڑے سے آدمی حمید سے پہلے کھڑے تھے ان میں سے ایک دو آدمیوں نے روٹی لی اور چلے گئے اور آدمی آئے اور کھڑے ہوگئے۔ ہر ایک آتا سلام کرتا اور روٹی لے کر چلاجاتا۔ دوسرا جاتا اور کہتا اے روٹی بیچنے والے خوش رہو، سلام ہو تم پر اور روٹی لیتا اور چلا جاتا۔ کافی وقت گزر گیا۔ سب آتے اور روٹی لے کر چلے جاتے لیکن حمید اور کئی دوسرے بچے ابھی کھڑے تھے۔ جتنا وہ کہتے کہ اب تو ہماری باری آگئی ہے کوئی بھی ان کی باتوں پر کان نہ دھرتا۔ حمید غصہ میں آگیا اور بلند آواز سے کہنے لگا: اے روٹی والے! میری باری پہلے تھی وہ گزر گئی ہے۔ مجھے روٹی کیوں نہیں دیتے۔ روٹی والا سامنے آیا اور سخت لہجے میں کہنے لگا: بچے کیوں شور مچاتے ہو۔ تھوڑا صبر کرو، تحمل رکھنا چاہیے حمید پھر کھڑا رہا لیکن قریب تھاکہ رونا شروع کردے۔ بالآخر بہت دیر کے بعد اس نے دو روٹیاں لیں اور گھر واپس لوٹا۔
اس کے ابو گھر کے سامنے اس کے منتظر تھے پوچھا کہ کیوں دیر کی۔ حمیدنے رو کر کہا: سب آرہے تھے اور روٹی لے کر جارہے تھے لیکن میں کہتا رہا کہ اب میری باری ہے کسی نے میری بات نہ سنی۔ ابو نے کہا: بہت اچھا: انہوں نے چالاکی سے تمہاری باری لی جیسے تم نے چالاکی کی تھی اور جلدی بس میں سوار ہوگئے تھے کیا تم نے خود نہیں کہا تھا کہ انسان کو چالاک ہونا چاہیے۔ لیکن اب تمہیں پتہ چلا کہ ایسا کام چالاکی نہیں ہے اب تم سمجھے کہ یہ کام ظلم ہے۔ یہ دوسروں کے حق کو ضائع کرنا ہے بیٹا چالاکی یہ ہے کہ نہ تم کسی کی باری لو اور نہ کسی کو اپنی باری ظلم سے لینے دو۔ ایک مسلمان انسان کو تمام حالات میں دوسروں کے حق اور باری کا خیال رکھنا چاہیے۔
پیارے حمید: دوسروں کے حق کا احترام کرو۔ اگر تمہیں پسند نہیں ہے کہ دوسرے تمہاری باری لیں تو تم بھی کسی کی باری نہ لو۔ جو بھی کسی کی باری لیتا ہے وہ ظلم ہے اور خدا ظالموں کا دشمن ہے اور انہیں سزا دے گا۔ حضرت امیر المومنین ؑنے اپنے فرزند امام حسنؑ سے فرمایا تھا: کہ بیٹا جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو دوسروں کے لئے بھی وہی پسند کرو اور جو چیز اپنے لئے پسند نہیں کرتے دوسروں کے لئے بھی پسند نہ کرو۔
- Home
- بچوں کا نوائے اسلام
- دوسروں کے حق کو ضائع کرنا
دوسروں کے حق کو ضائع کرنا
-
Ilyas - جون 26, 2020
- بچوں کا نوائے اسلام
- 4
- 0 minute read


































