
تہران : ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ دنیا کو یہ منظر دیکھنا چاہیے کہ ایرانی عوام اپنی عظیم مادرِ وطن کے دفاع، ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے تجدیدِ عہد اور انقلاب کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے ملک بھر میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔
تہران کے آزادی اسکوائر میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کے عظیم اجتماع سے خطاب میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ 11 فروری وہ دن ہے جب عوام نے ناانصافی، ظلم اور جبر کے خلاف قیام کیا۔ صدر نے مزید کہا کہ انقلاب کے ابتدائی دنوں سے ہی دشمنوں نے تقسیم پیدا کرنے اور بغاوتیں کرانے جیسے اقدامات کے ذریعے اس نوخیز تحریک کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ماضی میں کچھ گروہوں نے ملک کے وسائل کو لوٹا اور آج دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ملک چلا سکتے ہیں، جبکہ معزز شہدا کے پاس اپنی جانوں کے سوا کچھ نہ تھا، جو انہوں نے وطن اور قومی وقار کے لیے قربان کر دیں۔ صدر نے داخلی اتحاد اور ہم آہنگی کی ضرورت کو دہراتے ہوئے کہا کہ خطرات، سازشوں اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں کے مقابلے میں یکجہتی کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج پہلے سے زیادہ اسلامی انقلاب کے رہبر کی دانشمندانہ رہنمائی کی ضرورت ہے تاکہ مسائل اور اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر مختلف آرا کو یکجا کیا جا سکے اور واضح ہدف کی جانب پیش قدمی کی جا سکے۔ صدر نے کہا کہ رہبر کی موجودگی ایک طاقت ہے جس نے تمام چیلنجز کے باوجود نظام اور انقلاب کو مضبوطی کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دیا ہے۔


































