
لاہور: لاہور ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا سے توہین آمیز مواد نہ ہٹانے پر اداروں کو کھری کھری سنادیں۔ عدالت نے کہا کہ نادرا، پی ٹی اے، پیمرا اور متعدد ادارے کیا کر رہے ہیں؟ نہ تو وفاقی حکومت اورنہ ہی ان کے اداروں سے اچھا ریسپونس ملا۔ حتی کہ کسی ادارے کے سیکشن افسر تک نے سنجیدہ رویہ نہیں دکھایا۔ ہم صرف فیصلے پر عمل درآمد چاہتے ہیں۔ انتہائی اہم اور حساس معاملے پراداروں کا رویہ نامناسب تھا۔ عدالت کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ کتنے اجلاس ہوئے اور کتنے سیمینار ہوئے۔ یہ میرا اور آپ کا مسئلہ نہیں بلکہ توہین قرآن کا معاملہ ہے۔ اگر یہی رویہ اختیار کرنا ہے تو ہم درخواست واپس کردیتے ہیں پھر اللہ کامعاملہ اللہ ہی دیکھے گا۔ وزیراعظم کی جانب سے ان کے پرنسپل سیکریٹری نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ عدالتی فیصلے پر من وعن عمل ہوگا۔ کابینہ کی منظوری کےبعد سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے کےلئے پورا روڈ میپ دیں گے۔ عدالت نے ریمارکس دئے کہ اللہ کرے ادارے اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ہوسکتا ہے یہی اقدام ہمارے لئے باعث برکت ہو۔ عدالت نے عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔


































