
بچوں کو خدا، جنت اور جہنم کا تعارف کس عمر میں اور کیسے کروائیں؟
مہم نکتہ
جنت اور جہنم غیبی امور میں سے ہیں اور بچے سات سال تک صرف ان چیزوں کو سمجھتے ہیں جنہیں حواس خمسہ کے ذریعے محسوس کرتے ہیں لہذا چھوٹی عمر میں بیان کرنا ان کے ذہنوں میں شکوک و شبہات ایجاد کرے گا جو کہ بعض اوقات غلط ہے۔
تفصیلی جواب
مرحلہ اول
اگر بچے سات سال یا اس سے چھوٹے ہیں تو انہیں سادہ، مثبت اور آسان مفاہیم یاد کروائیں جیسے «لااله الا الله» یاد کروانا۔ اسی طرح ان کی حوصلہ افزائی کی جائے خواہ ماشاءاللہ یا شاباش کہنے سے ہی کیوں نہ ہو یعنی ان کے ذہنوں میں خوشگوار اور اچھی یادیں پیدا کریں۔
مرحلہ دوم
اگلا مرحلہ جب بچہ پہلے سات سال گزار چکا ہے اور اب پہلے کی نسبت سمجھ بوجھ بھی زیادہ رکھتا ہے تو اسے ایسے مفاہیم مثالوں کے ذریعے سمجھائیں مثلا ایک انار کے سارے دانے نکالیں اور اب اسے کہیں کہ کون ہے جو دوبارہ اسے اسی شکل میں منظم ترتیب دے سکتا ہے؟ ہاں! ایک ذات ہے جو یہ کام کر سکتی ہے اور وہ صرف اور صرف خداوند عالم کی ذات ہے۔
مرحلہ سوم
آخری مرحلہ جب بچے نوجوانی اور جوانی کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اب انہیں ان اعلی سطح کے غیبی امور کو علمی انداز میں سمجھایا جا سکتا ہیں۔


































