سعودی ولی عہد کے دو قریبی ساتھی سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد اسیری اور سابق شاہی مشیر سعود القحطانی بھی شامل، خاشقجی کے قتل کیلئے اکسانے کا الزام
ترکی نے یہ فردِ جرم گواہوں کے بیانات، خاشقجی کے ڈیجیٹل آلات کے تجزیے اور ترکی آنے جانے والے افراد کے ریکارڈ کی بنیاد پر عائد کی ہے
انقرہ(نیوز ڈیسک)ترکی نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 20 سعودی شہریوں پر فردِ جرم عائد کر دی، اس میں سعودی ولی عہد کے قریبی ساتھی سابق ڈپٹی انٹیلی جنس چیف احمد اسیری اور سابق شاہی مشیر سعود القحطانی بھی شامل ہیں جن کو قتل کے لیے اکسانے کا ملزم ٹہرایا گیا ہے، استغاثہ کے بیان میں
باقی 18 افراد پر جان بوجھ کر اور بہیمانہ قتل سرانجام دینے کا الزام عائد کیا گیا ہے، ان افراد میں سعودی رائل گارڈ کے ممبر، فورنسک ماہر اور سعودی انٹیلی جنس افسر بھی شامل ہیں جنھوں نے ماضی میں ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ سفر کیا ہے، یہ فردِ جرم گواہوں کے بیانات، خاشقجی کے ڈیجیٹل آلات کے تجزیے اور ترکی آنے جانے والے افراد کے ریکارڈ کی بنیاد پر عائد کی گئی ہے۔یاد رہے کہ جمال خاشقجی کو اکتوبر 2018 میں استنبول کے سعودی قونصل خانے میں بے رحمی سے قتل کردیا گیا تھا،مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو یقین ہے کہ قتل ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حکم پر کیا گیا لیکن انھوں نے اس بات کی تردید کی ہے، اقوامِ متحدہ کی ایک خصوصی نمائندہ کا کہنا ہے کہ خاشقجی کو جان بوجھ کر، سوچ سمجھ کر قتل کیا گیا اور سعودی ریاست اس ماورائے عدالت قتل کی ذمہ دار ہے، خاشقجی قتل کیس میں دسمبر میں سعودی عدالت نے پانچ افراد کو سزائے موت جبکہ تین افراد کو قید کی سزا سنائی تھی۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- خاشقجی کے قتل میں 20 سعودی شہریوں پر فرد جرم…
خاشقجی کے قتل میں 20 سعودی شہریوں پر فرد جرم عائد
-
Ilyas - اپریل 2, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 16
- 0 minute read


































