
کربلاء، بے شعوری اور بزدلی سے بصیرت و شجاعت کی منزلوں کا ایک انسان ساز سفر ۔۔۔
تحرير: سيد محمد حسن رضوى
انسان کی زندگی میں بہت سے معیارات خود ساختہ اور نفس کی آمیزش کی بناء پر بن جاتے ہیں۔ کربلا حق کے معیارات کو نفس کی آمیزش سے پاک کرنے کا نام ہے۔ بزدلی انسان کے رگ و پے میں اس طرح سمائی ہوتی ہے کہ ابھی مشکل آئی نہیں ہے لیکن انسان اس کا تصور کر کے ہی بیٹھ جاتا ہے اور پھر انسان رسمی دین اور دنیا عطا کرنے والے دین کا قائل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ دین میں تحریف کا آغاز انہی مادی مفادات سے ہوتا ہے۔
کربلا الہی معیارات اختیار کرنے کا ایک وسیلہ ہے، کربلا تمام مفادات داؤ پر لگا کر راہ امام علیہ السلام میں قربان ہونے کا نام ہے، کربلا سے اسی شخص کا حقیقی رشتہ ہے جس کی نظر جناب قاسم ع کی مہندی کی بجائے جناب قاسم ع کے فدا ہونے والے جذبے اور ولولے پر اور اپنے مولا اور آقا پر تن من دھن کو قربان کرنے پر ہے، ۔۔ کربلا بے بسی و بے ہمتی نہیں بلکہ شعور سے اپنی اولاد دین پر قربان کرنے کا اعلان ہے۔


































