
کراچی : سانحہ جامع مسجد خدیجۃ الکبریٰ ترلائی اسلام آباد کے خلاف اور ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے اظہارِ یکجہتی کیلئے کراچی میں عظیم الشان ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کا اہتمام مختلف تنظیموں کی جانب سے کیا گیا تھا ۔ریلی کے شرکا نے نمائش چورنگی سے سی بریز پلازہ تک مارچ کیا۔ جس میں ہزاروں مرد و خواتین نے شرکت کی۔
ریلی کے شرکا کی بڑی تعداد نے آیت اللہ سید علی خامنہ ای تصاویر کے علاوہ صیہونی جارحیت میں شہید ہونے والے فلسطین، لبنان اور ایران کے شہیدوں کی تصاویر نیز فلسطین و پاکستان کے پرچم اور امریکہ مخالف نعروں والے بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ ریلی کے شرکا امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگا رہے تھے۔
ریلی سے شیعہ علماء کونسل کے مرکزی ایڈیشنل جنرل سیکرٹری علامہ ناظر عباس تقوی، مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ حسن ظفر نقوی، علامہ نثار قلندری، صدر آئی ایس او کراچی ریجن سید عون رضوی، جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما اسداللہ بھٹو، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی رہنما مولانا عقیل انجم قادری سمیت مختلف مسالک کے علماء کرام اور اقلیتی برادری کے نمائندگان نے خطاب کیا۔ ہندو برادری سے منہوج چوہان اور مسیحی برادری سے پاسٹر رحمت لعل نے بھی سانحہ ترلائی پر اظہارِ افسوس اور یکجہتی کا اظہار کیا
۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ سانحہ مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں ملوث عناصر اور سہولت کاروں کو فوری طور پر گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے حقائق قوم کے سامنے رکھے جائیں۔ مقررین نے کہا کہ ملک میں دہشتگردی کے واقعات ناقابلِ برداشت ہیں اور ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ مقررین نے کہا کہ ولی امر مسلمین کے خلاف امریکی صدر کی دھمکیاں قابلِ مذمت ہیں، آیت اللہ خامنہ ای عالمِ اسلام کی وحدت کی علامت ہیں اور ان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت یا اشتعال انگیزی خطے کے امن کیلئے سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور پاکستان برادر اسلامی ممالک ہیں، جن کے مابین تاریخی، مذہبی اور تزویراتی روابط موجود ہیں، لہٰذا ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت کو خطے کے امن کے خلاف اقدام تصور کیا جائے گا۔۔ غزہ بورڈ آف پیس کے حوالے سے مقررین نے کہا کہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی قومی مفادات اور امتِ مسلمہ کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دینی چاہیے۔


































