
راولپنڈی : علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ افغانستان میں مسلسل ہزارہ برادری سمیت پُرامن شہریوں کو دہشت گرد نشانہ بنا رہے ہیں، عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے بھرپور اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کابل ہائی اسکول میں ہونیوالی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہوئے سوگوار خاندانوں اور افغان عوام سے دلی ہمدردی و تعزیت کا اظہار کیا اور بروقت امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہونے اور رکاوٹوں کی اطلاعات پر وضاحت کو ضروری قرار دیا۔علامہ ساجدنقوی نےسوئیڈن اور ہالینڈ میں پے درپے گستاخیاں کرنے اور اسلامو فوبیا کے حالیہ واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتہاء پسندی جس بھی روپ میں ہو، وہ نہ صرف قابل مذمت بلکہ قابل گرفت بھی ہے۔انہوں نےکہا کہ مغربی دنیا نے باربار متوجہ کرنے کے باوجود گستاخانہ کارروائیوں کیخلاف اقدامات نہیں اٹھائے، جبکہ عالمی برادری اور خصوصاً امت مسلمہ میں اس حوالے سے تحرک موجود نہیں۔ صرف اقوام متحدہ کی جانب سے اسلامو فوبیا کا دن مختص کرنے، عالمی برادری کی جانب سے اظہار افسوس یا مذمت ان مسائل کا حل نہیں، دنیا میں قیام امن کیلئے باہمی احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی، مقدس ہستیوں اور کتب کا احترام لازمی قرار دیکر خلاف ورزی کرنیوالوں کیخلاف سخت ترین اقدامات کرنا ہونگے۔ علامہ ساجد نقوی نے سندھ کے ضلع دادو کے گاﺅں میہڑ میں ہونیوالی آتشزدگی میں بچوں سمیت کئی لوگوں کے انتقال، جانوروں اور مالی نقصان پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ متاثرین کی فی الفور امداد کی جائے اور اس سانحہ کی تحقیقات کی جائیں۔


































