
کراچی:عالمی یوم القدس کی مناسبت سے کراچی میں واقع خانہ فرہنگ جمہوری اسلامی ایران میں کانفرنس بعنوان ’قدس عالم اسلام کی وحدت کا محور‘ ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ کانفرنس میں ایرانی قونصل جنرل حسن نوریان، ڈائریکٹر خانہ فرہنگ ایران آقائے نوروزی، جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری علامہ سید عقیل انجم قادری، فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم، متحدہ علما محاذ کے صدر عبدالخالق فریدی، عیسائی مذہبی رہنما بشپ خادم بھٹو، ایف پی سی سی آئی پاکستان کے نائب صدر عبدالجبار و دیگر مقررین نے اظہار خیال کیا۔ کانفرنس میں نظامت کے فرائض اسسٹنٹ پروفیسر جواد حیدر نے انجام دیئے۔ کانفرنس کے آغاز میں پاکستان اور ایران کے قومی ترانے پیش کئے گئے، جبکہ عالمی یوم القدس و مسئلہ فلسطین سے متعلق خصوصی ڈاکیومینٹری بھی چلائی گئیں۔
خانہ فرہنگ ایران کراچی کے ڈائریکٹر آقائے نوروزی نے کانفرنس کے آغاز میں تمام شرکاء کو خوش آمدید کہا۔ اپنے خطاب میں آقائے نوروزی نے کہا کہ صیہونی غاضبوں کا مقابلہ صرف فلسطینیوں کی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ بیت المقدس کی آزادی کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں فلسطینیوں کی بھرپور حمایت کریں۔ جمعیت علمائے پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری علامہ سید عقیل انجم قادری نے کہا کہ القدس اہل تشیع اور ایران کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اسرائیل کو ناجائز اور غاضب ریاست قرار دیا، ہم پاکستانی ہمیشہ فلسطین کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرینگے۔
متحدہ علما محاذ پاکستان کے صدر عبدالخالق فریدی نے کہا کہ آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم القدس عظیم الشان طریقے سے منایا جاتا ہے اور مسئلہ فلسطین عالمی سطح پر اجاگر کیا جاتا ہے اس کا کریڈٹ امام خمینیؒ کو جاتا ہے۔ بشپ خادم بھٹو نے کہا کہ مسیحی برادری مظلوم فلسطینیوں کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتی ہے، ہم اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتے ہیں اور جنگ آزادی میں فلسطین اور فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایف پی سی سی آئی پاکستان کے نائب صدر عبدالجبار نے کہا کہ امام خمینیؒ نے ہمیشہ فلسطینیوں کی ہر طرح سے حمایت کی، عالم اسلام متحد ہو کر ہی اپنے آپ کو منوانا سکتی ہے۔


































