
لندن : عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو شدید دھچکا لگا ہے اور وہ مسلسل دوسرے سال دنیا کا سب سے کم ساکھ والا ملک قرار پایا ہے۔
نجی تحقیقی ادارے نیشن برانڈز انڈیکس کی سالانہ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی ساکھ میں چھ اعشاریہ ایک فیصد کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ۔ جو گزشتہ دو دہائیوں میں سب سے بڑی گراوٹ ہے ۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی تنقید صرف اسرائیلی حکومت یا فوج تک محدود نہیں رہی بلکہ بیرونِ ملک اسرائیلیوں کو ناپسندیدہ شخصیات کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق زی اٹھارہ سے چوبیس سال کے افراد پر مشتمل جنریشن زی اسرائیل کو ایک نوآبادیاتی، زہریلی اور لبرل اقدار سے متصادم ریاست کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اسرائیل کو برآمدات اور مصنوعات کے شعبے میں بھی سب سے نچلا درجہ ملا، جو اسرائیلی اشیا اور خدمات کے بائیکاٹ کے بڑھتے رجحان کی عکاسی کرتا ہے۔
انڈیکس کے تحت ممالک کی عالمی ساکھ کو سیاحت، عوام، ثقافت، امیگریشن، برآمدات اور طرزِ حکمرانی سمیت چھ شعبوں میں جانچا جاتا ہے.


































