فلسطینی مزاحمت اور اس کے مجاہدین کو کچلنے اور غرب الاردن میں یہودی بستیوں میں کارروائیاں نہ روک پانا اسرائیلی قابضین کی ناکامی ہے،ترجمان
غرب الاردن کے علاقوں کے انضمام کے ، صہیونی اقدام کا مقابلہ کرنے کیلئے فلسطینیوں کی قومی جدوجہد کا نیا دور شروع کرنا ضروری ہے،حماس ترجمان
غزہ (نیوزڈیسک) حماس نے اسرائیل کی انہدام پالیسی کو فلسطینی مزاحمت، مجاہدین کو کچلنے اور غرب الاردن میں یہودی بستیوں پر کارروائیاں نہ روک پانے کو اسرائیل کی ناکامی کا واضح عکس قرار دیا اور فلسطینی عوام اور قومی دھڑوں کی اولین ترجیح کے طور پر مغربی کنارے میں مزاحمت کی مقبول تحریک کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ،انہو ں نے قابض ریاست کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ قیدیوں اور شہدا کے لواحقین کے خلاف جاری جرائم کی بڑی قیمت ادا کرے گا،ادھر حماس کے ترجمان عبد اللطیف القانوع نے غرب اردن کے مزید علاقوں کے صہیونی علاقے میں انضمام کو فلسطین کو یہودی رنگ دینے کی خطرناک سازش قرار دیا ہے، ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیلی اقدام سے غرب الاردن کا 38فیصد حصہ زیر قبضہ علاقوں میں شامل ہو جا ئے گا اور یوں ستّر فیصد صہیونی کالونیوں کو غیرقانونی جواز مل جائے گا ، صہیونیوں کے اس اقدام کا مقابلہ کرنے کیلئے فلسطینیوں کی قومی جدوجہد کا نیا دور شروع کرنا ضروری ہے اور فلسطینی انتظامیہ کو چاہئے کہ وہ استقامت کی مدد سے غاصبوں کو ملنے والا قانونی جواز چھین لے، دوسری جانب حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانا ایک بڑا اور ناقابل معافی جرم ہے،ایسی کوشش کرنے والے عرب حکمراں، فلسطینیوں کے خلاف جرائم جاری رکھنے پر صہیونیوں کو ترغیب دلا رہے ہیں تاہم ان کی یہ کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو گی ، فلسطینی قوم نے جارحیت کے مقابلے میں ہمیشہ استقامت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس کی بنیاد کبھی متزلزل نہیں ہو گی۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- اسرائیل کی انہدامی پالیسی مزاحمت کو کچلنے میں ناکامی کا…
اسرائیل کی انہدامی پالیسی مزاحمت کو کچلنے میں ناکامی کا ثبوت ہے،حماس
-
Ilyas - مئی 14, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 16
- 0 minute read


































