
جدہ : اسلامی تعاون تنظیم او آئی سی نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کے قیام اور توسیع کی مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ او آئی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ عالمی عدالت انصاف نے 2004 اور 2024 میں جاری کردہ مشاورتی آرا میں مقبوضہ علاقوں میں اسرائیلی بستیوں کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔ او آئی سی کے مطابق ان بستیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ بین الاقوامی انسانی حقوق اور عالمی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ او آئی سی نے ریاستوں پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی موجودگی سے پیدا ہونے والی غیر قانونی صورتحال کو تسلیم نہ کریں اور اسے برقرار رکھنے میں کسی قسم کی مدد فراہم نہ کریں۔
تنظیم نے اقوام متحدہ اور اس کے انسانی حقوق کے اداروں سے بھی مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور خلاف ورزیوں کے احتساب کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ او آئی سی نے فلسطینی عوام کے ناقابل تنسیخ حقوق کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے حق خودارادیت اور مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بنانے والی آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے حق کی حمایت بھی کی۔

































