
نیویارک : فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ اسرائیلی پالیسیاں محض دو ریاستی حل کو کمزور کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ اب فلسطینیوں کی زندگی اور وجود کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہیں۔ محمود عباس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب میں کہا کہ فلسطینی تاریخ کے خطرناک ترین ادوار میں سے ایک سے گزر رہے ہیں، جہاں قتل، تباہی، بھوک اور بے دخلی کا سامنا ہے۔ فلسطینی صدر نے کہا کہ غزہ میں محلے، شہر، پناہ گزین کیمپ، اسکول، جامعات، اسپتال، مساجد اور گرجا گھر تباہ کیے جا چکے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کو فلسطینی سرزمین کی تقسیم اور جبری بے دخلی کا باعث قرار دیتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا کہ بین الاقوامی قانون کی بنیاد پر دو ریاستی حل پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ محمود عباس نے کہا کہ دو ریاستی حل کو بچانے کا آغاز فلسطینی ریاست کے لیے مختص زمین کے تحفظ اور وہاں آباد فلسطینیوں کے تحفظ سے ہونا چاہیے۔

































