
غزہ : حماس نے کہاہےکہ اسرائیلی حکام غزہ میں نسل کشی کے دوران تحویل میں لی گئی سینکڑوں فلسطینی شہداء کی لاشیں واپس کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ حماس نے لاشیں روکنے کو عالمی خاموشی کے سائے میں ہونے والا ایک سفاک جرم قرار دیا ہے۔ تحریک کا کہنا ہے کہ کئی لاشیں دہائیوں سے نام نہاد نمبر والی قبروں میں رکھی گئی ہیں، جن کے بارے میں اہلِ خانہ کو کوئی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ حماس کے مطابق اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی تقریباً دس ہزار فلسطینی شہداء لاپتہ ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ غزہ میں بھاری مشینری اور ضروری آلات کی شدید کمی ہے، جس کی بنیادی وجہ اسرائیل کی جانب سے ان کی ترسیل پر پابندی ہے۔ تحریک نے کہا کہ اس رکاوٹ کے باعث لاشوں کی بازیابی اور تدفین کے عمل میں شدید مشکلات درپیش ہیں۔ بیان میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل پر فوری دباؤ ڈالا جائے تاکہ شہداء کی لاشیں واپس کی جائیں اور رفح کراسنگ کھولی جائے۔


































