Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

اسرائیل انڈیا گٹھ جوڑ اور پاکستان

تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس

ابھی لندن میں پاکستانی سفارتخانے کے سامنے ایک مظاہرے کی ویڈیو نظر سے گزری۔ یہ دیکھ کر عجیب لگا کہ اس جلوس میں ہندوستانی جھنڈوں سے زیادہ اسرائیلی جھنڈے ہیں۔ اسرائیلی مظاہرین بڑے جوش و خروش سے پاکستان کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کی ٹنشن چل رہی ہے، جس کی وجہ سے لندن میں دونوں کمیونٹیز ایک دوسرے کے سفارتخانوں کے سامنے مظاہرے کر رہی ہیں۔ ایک ہندوستانی ہمارے خلاف نعرے لگائے، سمجھ میں آتا ہے کہ ہم نے اس کی دم پر پاوں رکھا ہوا ہے، مگر اسرائیلی اچھل اچھل کر پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کیوں کر رہے ہیں؟ یہ سمجھنا پڑے گا۔ پہلے یہ بات سمجھ لیں کہ پاکستان اور اسرائیل دو ایسے ممالک ہیں، جن کا وجود ہی مذہبی نعرے پر ہے۔

اسرائیل کو دوسری جنگ عظیم کے بعد مسلمانوں کو مستقل سزا دینے کے لیے خطے میں مغربی سامراج نے بنایا تھا۔ یہ بات اس وقت کا ڈوبتا سامراج یعنی برطانیہ اور ابھرتا سامراج یعنی امریکہ دونوں جانتے تھے کہ اگر ہم نے مشرق کو تنازعات کے بغیر چھوڑ دیا تو یہ بہت جلد ترقی کر جائیں گے اور ہمارے مقابل آجائیں گے۔ اسی لیے انہوں نے اس کھیل میں مختلف چالیں چلی ہیں۔ کہیں مذہب کی بنیاد پر فرقہ واریت کی جڑوں کو مضبوط کیا اور کہیں قوم پرستی کے نام پر ملتوں کو باہم دست گریبان چھوڑ گئے۔ کہیں وسائل کو اس طرح تقسیم کیا کہ لڑائی ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی پروجیکٹ کو لانچ کیا گیا۔

آج کی بات نہیں ہے، اسرائیل اور انڈیا کا اتحاد ہمیشہ سے پاکستان کے خلاف موجود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب فکری اور جذباتی طور پر اسرائیل کے قدموں میں سر جھکا چکے ہیں۔ اب عربوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں کہ ان کی بات بھی کی جائے۔ آج جو ممالک نظر آتے ہیں، یہ گیم کا حصہ ہیں، انہیں خود رکھا گیا ہے بلکہ یہ ان کے نظام کے حمایتی ہیں۔ اسرائیل کے خلاف ایک بڑا حصار اسلامی جمہوریہ ایران نے مزاحمتی بلاک کی صورت میں قائم کیا۔ یہ مسلک، رنگ اور نسل کی بنیاد پر نہیں تھا، بلکہ یہ فقط جذبہ حریت کی بنیاد پر تھا۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اس میں ایک طرف حماس کے اہلسنت سلفی فکر لوگ ہیں، دوسری طرف حزب اللہ کے شیعہ جوان ہیں اور یمن سے زیدی فکر اہل ایمان اس مزاحمتی بلاک کی طاقت ہیں۔

اسرائیل اپنے زعم میں یہ سمجھتا ہے کہ ہم نے مزاحمت کو گھیر لیا ہے اور اب امریکہ اور یورپ کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقابل لا کھڑا کیا ہے۔ یہ اسلامی جمہوریہ ایران کی سفارتی حکمت عملی ہے، جس نے دشمن کو اس محاذ پر ناکام کیا ہوا ہے۔اس پر ان شاء اللہ اگلے کسی کالم میں تفصیل سے لکھیں گے۔ اسرائیل پاکستان کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پچیس کروڑ آبادی کا ملک جس میں جدید یونیورسٹیاں ہوں اور ایٹمی طاقت کا حامل ہو، کسی بھی صورت میں اسرائیل کو قبول نہیں ہے۔ یاد رکھیں، ہم آپس میں الجھے ہوئے ہیں اور اپنی طاقت سے آشنا نہیں ہیں، مگر ہمارا دشمن بہت چالاک ہے۔ وہ جانتا ہے کہ عرب اسرائیل جنگوں میں جن پائلٹوں نے اس کے جہاز تباہ کیے، وہ پاکستان فضائیہ کے تربیت یافتہ تھے۔ اس وقت تو پاکستان کو بنے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا، آج پاکستان کی فوج پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، اسی لیے اسرائیل پاکستانی فوج انڈیا کے ذریعے کچلنے کا پروگرام رکھتا ہے۔

یہ ہوائی باتیں نہیں ہیں، آپ کو یاد ہوگا کہ جب پاکستان ایٹمی دھماکے کرنے والا تھا، اس وقت اسرائیل اور انڈیا نے مل کر پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنے کی سازش کی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اسرائیلی جہاز اڑان بھر چکے تھے کہ پاکستان کی انٹیلیجنس نے پورا پلان طشت ازم بام کر دیا۔ پاکستان کے امریکہ میں اس وقت کے سفیر اسی وقت سی این این پر آئے تھے اور کہا تھا کہ اگر آج اسرائیل نے یہ کیا تو اس کی نتائج بھگتنا پڑیں گے۔ چین اور دوسرے ممالک نے فوراً مداخلت کی، جس کی وجہ سے یہ پلان ناکام ہوگیا اور پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر لیے تھے۔ پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی انڈیا سے زیادہ چبھن اسرائیل کو ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ اسرائیل ہمیشہ انڈیا کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ آج ڈرون سے لے کر جدید ترین اسلحہ انڈیا کو بھیجا دیا جا رہا ہے۔

یاد رکھیں، اب حالات بہت بدل چکے ہیں، پاکستان ایک ایٹمی قوت ہے اور اس نے اپنا دفاع بہت مضبوط کر لیا ہے۔ بھارت کا جنگی جنون اسے ایٹمی جنگ کی طرف لے جا رہا ہے۔ ایٹمی جنگ پورے خطے کو برباد کر دے گی، جس کے تصور سے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ابھی حاتمی صاحب کی ایک تحریر دیکھ رہا تھا، لکھتے ہیں: پاکستان کے پاس اعلانیہ طور پر تقریباً 250 ایٹمی وارہیڈز موجود ہیں، تاہم اصل تعداد سے متعلق کوئی مصدقہ عالمی اعداد و شمار دستیاب نہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ایک ایٹمی وارہیڈ کا حملہ محض ابتدائی تیس سیکنڈ کے اندر کم از کم 20 لاکھ شہریوں کی فوری ہلاکت کا سبب بن سکتا ہے۔ اگر بھارت کی موجودہ آبادی کو تقریباً 1 ارب 46 کروڑ فرض کیا جائے تو ابتدائی حملے کے بعد تقریباً 96 کروڑ افراد زندہ بچیں گے۔

تاہم ان میں سے اکثریت شدید زخمی، معذور، بیماریوں کا شکار یا غذائی قلت کی وجہ سے نازک حالت میں ہوگی۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار اور ماضی کے جوہری تجربات سے اخذ کردہ نتائج کے مطابق، جوہری جنگ کے بعد قحط، آلودگی، طبی سہولیات کے انہدام اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی کے نتیجے میں بچ جانے والے افراد کی بڑی تعداد تین سے چار ہفتوں کے اندر ہلاک ہوسکتی ہے۔ پہاڑی اور دور دراز کے کچھ مقامات پر عارضی طور پر بقاء ممکن ہوگی، لیکن عمومی طور پر شہری زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو جائے گی۔ بھارت کو جنگی جنون سے نکل کر بات کرنا ہوگی۔یاد رکھیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ بلوچستان میں مداخلت ہوتی رہے اور خوارج کو اسلحہ دیا جاتا رہے اور پاکستان خاموشی سے بیٹھا رہے۔ انڈیا کو ہر صورت میں ایسے اقدمات کو روکنا ہوگا، جس سے خطے میں دہشتگردی بڑھ رہی ہے، ورنہ یاد رکھے کہ ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں اور آپ کا رہنا کچھ نہیں ہے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular