
تحریر: ڈاکٹر ندیم عباس
صیہونی ریاست کے ہاں معاہدہ جنگ کے درمیان وقفے کا نام ہے، جس میں اس نے کسی شق پر عمل نہیں کرنا، جب چاہے دوسرے پر حملہ کرنا ہے۔ اسرائیل خود کو کسی معاہدے کا پابند تصور نہیں کرتا۔ آپ دیکھیے کہ اس نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مختلف ممالک میں مقیم لوگوں کو صرف اس لیے قتل کیا کہ وہ فلسطینیوں کے لیے آواز بلند کرتے تھے۔ ہمارے ہاں لوگوں کو یہ غلط فہمی لاحق ہے کہ اسرائیل کے ساتھ معاہدے کرکے امن کے ساتھ رہا جا سکتا ہے۔ دیکھیے اسرائیل فقط موقع کی تلاش میں رہتا ہے، وہ کسی بھی صورت میں اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز نہیں آتا۔ پورا یورپ اور امریکہ لبنانی حکومت کے پیچھے پڑا رہا ہے کہ آپ معاہدہ کریں، حزب اللہ ایک غیر ریاستی تحریک ہے، پورے لبنان پر آپ کا کنٹرول ہونا چاہیئے۔ ریاستی دباو مسلسل بڑھایا گیا، حزب اللہ نے حکومت کو موقع دیا کہ وہ ذرا معاہدہ کرکے دیکھ لے کہ اسرائیلی ریاست کسی معاہدے سے رکنے والی ہوتی تو فلسطینیوں کے ساتھ سینکڑوں معاہدے ہوچکے، اب تک رک چکی ہوتی۔
سیز فائر کے بعد سے لبنانی مسلح افواج نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے۔ اکتوبر کے مہینے تک 500 سے زیادہ فضائی حملوں کی تصدیق کی گئی ہے، جو سیز فائر کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق نے لبنان میں 108 شہری شہادتوں کی تصدیق کی ہے، جن میں 71 مرد، 21 عورتیں اور 16 معصوم بچے شامل ہیں۔ جنوبی لبنان سے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں کم از کم 19 شہریوں کے اغوا کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ انفراسٹکچر کی تباہی بھی جاری ہے، جس میں 300 سے زیادہ بھاری تعمیراتی گاڑیوں اور سول آبادی میں مکانات کو تباہ کیا گیا۔ یہ سب واقعات ناصرف سیز فائر کی خلاف ورزیاں تھیں بلکہ بین الاقوامی انسانی قانون اور حقِ زندگی کی خلاف ورزیاں تھیں۔ کل ہی حزب اللہ کے چیف آف سٹاف پر اسرائیل نے بیروت میں حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس پر اور دیگر واقعات پر لبنانی ریاست کا کیا ردعمل ہوتا ہے؟ کل کے لبنانی صدر کے بیان سے جھلکتی بے بسی سب کچھ واضح کر رہی ہے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے اتوار کے روز بیروت کے جنوبی مضافات میں ہونے والے حملے کے بعد بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کو روکنے کے لیے مداخلت کرے۔ ایک بیان میں عون نے کہا کہ لبنان "بین الاقوامی برادری سے اپنے اس مطالبے کو دہراتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کرے اور لبنان اور اس کے عوام پر ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے سنجیدگی اور مضبوطی کے ساتھ مداخلت کرے۔ محترم لبنانی صدر صاحب، کیا آپ اتنے سادہ ہیں؟ اور آپ کو معلوم نہیں ہے کہ آپ کے ملک پر کون حملہ کر رہا ہے۔؟ آپ کے ملک پر اسرائیل حملہ آور ہے، وہ کسی معاہدے اور اصول و ضابطے کا پابند نہیں ہے۔ آپ سے جن قوتوں نے جھوٹے وعدے کیے ہوئے ہیں، وہ ہر معاملے میں صیہونی ریاست کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ ہر معاملے میں آپ کو پابند کریں گے، آپ کے ہاتھ پاوں باندھیں گے اور آپ کو اسرائیل کے آگے پھینک دیں گے کہ وہ جتنا مارنا چاہے مار لے۔
یہاں پرامن بقائے باہمی کا کوئی ضابطہ نہیں ہے۔ صرف طاقت ہی واحد راستہ ہے، جس کی زبان سب کو سمجھ میں آتی ہے۔ آج غزہ کے لوگ غیر مسلح ہوتے تو کب کا اسرائیل انہیں سمندر میں ڈبو دیتا یا سینا کے صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا۔یہ تو مزاحمت کی طاقت ہے، جس نے انہیں مجبور کیا کہ وہ سیز فائر کریں اور جنگ بندی کریں۔ صدر لبنان جناب جوزف عون صاحب، آپ کی فوجی طاقت کو چند دنوں میں اسرائیل روند ڈالے گا، آپ کی طاقت مزاحمت کی صورت میں لبنان کی پشت پر ہے، اس لیے لبنان قائم ہے۔ آج مزاحمت کمزوز ہوئی تو لبنان اسرائیل کے قبضے میں ہوگا۔اسرائیل نہ کسی معاہدے کا پابند ہے اور نہ دنیا کے کسی ضابطے کی سنتا ہے۔ اس کے لیے صرف ایک ضابطہ ہے اور وہ طاقت کا توازن، اگر آپ میں اتنی طاقت ہے کہ آپ اس کے جواب کے لیے تیار ہیں تو ہی آپ کو امن نصیب ہوگا، ورنہ آپ اسی طرح کی اپیلیں کرتے رہیں گے۔
امریکی کس حد تک اسرائیل کے ساتھ ہیں، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا سکتے ہیں کہ میڈیا کے مطابق: غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی حمایت کرنے والے امریکیوں کا ایک گروہ امریکا سے سفر کرکے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل (ہیبرون) پہنچا، تاکہ اسرائیلی آبادکاروں کو فلسطینی زمین پر قبضہ کرنے میں مدد دے سکے۔غزہ کے لوگ تو مزاحمت کرتے ہیں، وہ اسرائیل پر حملے کرتے ہیں تو ذرا مغربی کنارے کے فلسطینیوں کو دیکھ لیں۔ یہ تو پرامن ہیں؟ ان کا رہنماء تو امریکہ اور یورپ کے ساتھ کھڑا ہے؟ تو آپ کیوں مغربی کنارے کے لوگوں پر زمین پر تنگ کر رہے ہیں؟ ان کی زمینوں پر قبضے کیوں کر رہے ہیں؟ ان کے باغات کو کیوں جلایا جا رہا ہے۔؟
حد تو یہ ہے میڈیا کے مطابق: اسرائیلی فوجیوں نے مغربی کنارے کے علاقے جنین کے سنور نامی گاؤں میں ایک فلسطینی خاندان کے فارم سے گائیوں کا ایک ریوڑ چوری کر لیا اور بعد میں انہیں اسرائیلی آبادکاروں کے حوالے کر دیا۔ کاش عرب ممالک کو یہ بات سمجھ میں آجاتی کہ امن معاہدوں سے نہیں طاقت سے حاصل ہوتا ہے۔ بھیک میں مانگا گیا امن بیچ چوراہے آپ کے وقار کو تار تار کر دیتا ہے۔ آپ کے ملک میں خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈا بھی آپ کو حملے سے محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ اب قطر کے ساتھ قرارداد وغیرہ کرکے معاملے کو ٹھنڈا کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مشہور ضرب المثل ہے، "گھوڑا اس کا جو اس پر سوار ہے اور اسلحہ اس کا جس کے ہاتھ میں ہے۔” مقام افسوس یہ ہے کہ اسلحہ اور گھوڑا دونوں عربوں کے پاس نہیں اور اسرائیل کسی معاہدے کو نہیں مانتا۔


































