
تحریر: یداللہ جوانی جونی
غزہ کی جنگ کے دوران مذاکرات کے کئی دوروں کے بعد، (جو تقریباً 16 مہینوں تک جاری رہے)، بالآخر امریکہ اور کچھ عرب ممالک کی ثالثی سے جنگ کو روک دیا گیا۔ صیہونی حکومت اور حماس کے مابین جنگ بندی کے لیے مذاکرات اگرچہ ایک واضح عمل اور اسکے کئی مراحل رہے ہیں۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ صیہونی حکومت نے شروع ہی سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور حماس کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو پامال کیا۔ اس دوران امریکہ کا رویہ ایک ثالثی اور معاہدے کے نفاذ کے ضامن کے طور پر انتہائی اہمیت کا حامل تھا۔ امریکیوں نے عہد کیا تھا کہ وہ صیہونی حکومت کو اس بات پر مجبور کریں گے کہ وہ جنگ بندی پر عمل پیرا ہو اور معاہدے کی خلاف ورزی نہ کرے۔
لیکن دستاویزات اور شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ امریکی حکومت نے نہ صرف یہ کہ صیہونی حکومت کی خلاف ورزیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی بلکہ اس نے ٹرمپ انتظامیہ کی مکمل منظوری اور حمایت کے ساتھ جنگ بندی کو توڑنے اور غزہ پر دوبارہ حملہ کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ حماس جس نے صیہونی حکومت کے ساتھ معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد کی امریکی ضمانت پر انحصار کیا تھا، وہی امریکہ صیہونی حکومت کے لئے ایک حوصلہ افزا اور معاون عنصر بن گیا، جس نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی اور جنگ کو دوبارہ شروع کیا۔ البتہ اس قسم کی عہد شکنی اور وعدہ خلافی امریکی حکومتوں کی جانب سے گذشتہ کئی دہائیوں میں معمول بن چکی ہے۔
امریکی ہمیشہ اور ہر لمحے صرف اپنے اور اپنے اتحادیوں کے مفادات کے مطابق فیصلے کرتے ہیں۔ اس سے قطع نظر کہ اس کے دوسروں پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ بلاشبہ یہ رویہ خود غرضی، غرور اور خود کو دوسروں سے بہتر سمجھنے کا مظہر ہے۔ تاریخی طور پر، بہت سے ممالک نے امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات میں بہت سارے تلخ تجربات کیے ہیں، جو پیش گوئی کے عین مطابق رہے۔۔ ایرانی قوم کو بھی امریکی حکومت کی طرف سے بدعنوانیوں اور معاہدوں کی خلاف ورزیوں کے درجنوں واقعات کا تجربہ ہے۔ اسلامی انقلاب سے پہلے اور بعد کے تلخ تجربات اس کی نمایاں مثال ہیں۔ حالیہ تاریخ بھی اس کی ایک مثال ہے۔ ایک بار پھر واضح ہوگیا ہے کہ امریکیوں کے لیے دوسرے ممالک اور ان کی اقوام کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ امریکہ کے لئے دوسرے ممالک اور اقوام کے مفادات نیز ان کے عزت و وقار کی کوئی اہمیت نہیں۔ اب کیا کیا جائے۔؟
کیا غزہ کی جنگ بندی ایک سبق نہیں؟
ایران ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے سخت ترین دباؤ کا شکار ہے، دوسری طرف مذاکرات کی دعوت اور جنگ کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ کیا ان لوگوں نے سوچا ہے، جو مذاکرات میں یقین رکھتے ہیں کہ اگر معاہدہ ہو جائے تو اس کی ضمانت کیا ہے۔؟ ٹرمپ پھر سے وائٹ ہاؤس میں داخل ہو کر مذاکرات کی درخواست کر رہا ہے۔ ایسے حالات میں، تمام تجربات کے ساتھ، اسلامی انقلاب کے حکیم رہنماء فرماتے ہیں۔ ایسی حکومت کے ساتھ بات چیت کرنا نہ عزت ہے، نہ عقلمندی ہے، نہ ہوشمندی۔ حکمت کی بات وہ ہے، جو تجربے پر مبنی ہو۔ تجربے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ قابل اعتماد نہیں ہے اور اس کے وعدوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ دنیا کی تمام حکومتوں اور ممالک کو کسی بھی قسم کے مذاکرات اور معاہدوں میں، جن میں امریکہ شامل ہے، قابل اعتماد ضامنوں کی تلاش کرنی چاہیئے، وگرنہ نتائج وہی ہونگے، جو عالمی ایٹمی معاہدے میں سامنے آئے ہیں۔


































