
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے اسلامی مزاحمت کو شام کا شاندار تشخص قرار دیا اور کہاکہ خطے میں شام کا خاص مقام اسی شاندار تشخص کی بدولت ہے اور یہ اہم خصوصیت باقی رہنی چاہئے۔ شام کے صدر بشار السد سے ملاقات میں ولی امر مسلمین نے کہاکہ ایران اور شام دونوں اسلامی مزاحمتی بلاک کا حصہ ہیں، دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ کو اہم قرار دیا۔ ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای نے کہاکہ مغربی طاقتیں اور خطے میں ان کے پٹھو حکمران شام کے خلاف جنگ شروع کر کے اس ملک کے سیاسی نظام کو سرنگوں کرنا چاہتے تھے اور یوں شام کو خطے کی مساواتوں سے حذف کر دینے کے درپے تھے لیکن وہ ناکام رہے اور اب وہ مختلف طریقوں، جیسے ایسے جھوٹے وعدے جن پر وہ ہر گز عمل پیرا نہیں ہوں گے، شام کو خطے کی مساواتوں سے نکال باہر کرنا چاہتے ہیں۔ سب کو چاہئے کہ وہ شامی حکومت کی اہم خوبی یعنی مزاحمت کو دیکھیں۔ انہوں نے ایران اور شام پر امریکہ اور یورپ کی جانب سے سیاسی اور اقتصادی دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: ہمیں باہمی تعاون کو منظم کرنے کے ذریعے ان حالات سے باہر نکلنا ہو گا۔


































