
نفرتیں پھیلانے کے بجائے ملک کو اتفاق اور اتحاد کی ضرورت ہے، اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو کر کورونا وائرس کیخلاف جنگ جیتی جا سکتی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ
عدالت نے تکفیریوں کی وائرس پھیلانے کا ذمہ دار زائرین کو قرار دینے،جوڈیشل کمیشن بنانے اور کیس کو التوا میں ڈالنے سمیت تمام درخواستیں مسترد کردیں
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملک میں کورونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار زائرین او رایران کو قرار دینے کی سازش ناکام بنادی اور تکفیریوں کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی، کالعدم تنظیم نے کاغذی سماجی تنظیم کو استعما ل کرتے ہوئے مقامی وکیل حافظ ملک مظہر جاوید ایڈووکیٹ کے توسط سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دارخواست دائر کی تھی، جس میں وفاقی حکومت، وزیراعظم،معاون خصوصی زلفی بخاری اور آئی ایس پی آر کو فریق بناتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ایران سے آنے والے زائرین کو ملک میں داخل کرکے نہیں بغیر اسکریننگ کے اہم اور گنجان آباد شہروں میں منتقل کیا گیا، وزیراعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے زائرین کو پاکستان میں داخل کیا،تفتان بارڈر سیل کرکے زائرین کو شہروں میں منتقل کرنے سے روکا جائے،عدالت نے درخواست پر ایک ہفتے کیلئے نوٹس جاری کئے تاہم اگلی سماعت پرعدالت نے درخواست کو مسترد کردیا،چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ اس وقت ملک کو بڑے بحران کا سامنا ہے، اختلافات بھلا کر اکٹھے ہو کر یہ جنگ جیتی جا سکتی ہے، آپس میں تقسیم نہ آپ اور نہ ہی عدالت کے مفاد میں ہے، نفرتیں پھیلانے کے بجائے اس وقت اتفاق اور اتحاد قائم کرنے کی ضرورت ہے، عدالت نے تحقیقات کیلئے جوڈیشل کمیشن بنانے اور کیس کے التوا سمیت تمام درخواستیں مسترد کردیں، عدالت کے دانشمندانہ فیصلے سے تکفیریوں کی ملک میں نفرتوں کا زہر گھولنے کی سازش ناکام ہوگئی۔


































