
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکیوں کی کسی سے بھی دوستی نہیں ہے اور وہ اپنے یورپی دوستوں تک کے وفادار نہیں ہیں۔ عراق کے صدر عبداللطیف رشید اور ان کے ہمراہ آئے وفد سے اظہار خیال کرتے ہوئے ولی امر مسلمین نے کہاکہ عراق کی پیشرفت، کامیابی، خودمختاری اور سربلندی اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے بہت اہم ہے اور دوطرفہ تعاون میں فروغ اور طے پا چکے معاہدوں پر عمل درآمد دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران، عراق کے ساتھ ہے اور عراق کی پیشرفت ہماری آرزو ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اور عراق کے تعلقات میں فروغ اور گہرائی کے کچھ کٹر دشمن ہیں اور اگر دونوں ملکوں کے درمیان مضبوط تاریخی اور اعتقادی رشتے نہ ہوتے تو تعلقات کی صورتحال شاید صدام کے زمانے کی طرح ہو جاتی۔ انھوں نے ایران اور عراق کے درمیان 8 سال تک چلنے والی جنگ کے باوجود اربعین اور دیگر مواقعوں پر عراقی عوام کی ایرانی زائرین کی خاطر مدارات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بڑی اہم چیز کا مطلب یہ ہے کہ دونوں قوموں اور ملکوں کے درمیان اتحاد کے اسباب موجود ہیں جن پر باہری سیاسی عناصر اثر انداز نہیں ہو سکتے۔اس موقعے سے تعلقات میں زیادہ سے زیادہ گہرائی لانے کے لیے فائدہ اٹھانا چاہیے اور تعلقات کے جاری رہنے کے لیے بہت زیادہ چوکنا اور ہوشیار رہنا ضروری ہے۔ ولی امر مسلمین نے عراقی حکومت کی موجودہ صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے اسے، عراقی عوام اور گروہوں کے اتحاد کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ عراق میں بہت اچھی شخصیات، اچھی فکر والے لوگ اور پرجوش اور محنتی جوان ہیں اور اس قومی ثروت سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور اس اتحاد کے اسباب کی حفاظت ہونی چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ امریکی، عراق کے دوست نہیں ہیں،ان کی کسی سے بھی دوستی نہیں ہے اور وہ اپنے یورپی دوستوں تک کے وفادار نہیں ہیں۔عراق میں ایک امریکی کی موجودگی بھی زیادہ ہے۔


































