
بغداد : عراق کی شیعہ سیاسی جماعتوں کی رابطہ کمیٹی نے صدر گروپ کے رویئے پر تنقید کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ صدر اور وزیراعظم کے انتخاب کے سلسلے میں صدر گروہ کے رویّے افسوسناک ہے وہ صدر کے انتخاب کے لئے بلائے گئے آئندہ پارلیمانی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے. رابطہ کمیٹی کے مطابق صدر و وزیراعظم کا انتخاب کرنے کے سلسلے میں صدر گروہ کے اقدام کو محض تشہیراتی ہنگامہ سمجھتی ہے۔ کمیٹی نے ملک کی اکثریتی آبادی کے سب سے بڑے گروہ کے درمیان بڑا اور موثر شگاف پیدا ہونے کی بابت خبردار کیا اور مذاکرات جاری رکھنے کا مطالبہ کیا۔کمیٹی نے سیاسی عمل میں شریک تمام جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ حب الوطنی کا مظاہرہ کریں، ملک کے مفادات کو مدنظر رکھیں اور جو چیز بھی ملک کے امن و استحکام میں خلل ڈالے اس سے دور رہیں، کیونکہ لوگوں پر رعب وحشت ڈالنے کے لئے پارلیمنٹ کا ایسا اجلاس بلانا جس کا کورم ہی پورا نہ ہوسکے، وہ شیعہ مسلمانوں کے حقوق کی پامالی کے سوا کچھ نہیں ہے۔قابل ذکر ہے کہ صدر گروہ نے عراق کو سیاسی تعطل سے نکالنے کے لئے رابطہ کمیٹی کی تمام تجاویز کی مخالفت کرتے ہوئے سنی سیاسی دھڑے اور کردوں کے ساتھ مل کر حکومت بنانے کا اعلان کیا ہے۔


































