
تحریر: محمد علی
اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ اور غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے اپنے اوپر مسلط کردہ جارحیت کے مقابلے میں چالیس دن تک جس بے مثال مزاحمت اور شجاعت کا مظاہرہ کیا ہے، اسے مغربی ایشیا اور حتیٰ اس سے بھی زیادہ وسیع سطح پر طاقت کے توازن میں تبدیلی کا اہم اور تاریخی موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ ایرانی قوم کی اس عظیم مزاحمت نے نہ صرف فوجی مساواتوں کو بدل کر رکھ دیا ہے، بلکہ عالمی سطح کے کھلاڑیوں کی نظریاتی اور فکری بنیادوں نیز ان کے اسٹریٹجک اندازوں کو بھی ہلا ڈالا ہے۔ اس ٹکراو کا میدان صرف فوجی شعبے تک محدود نہیں تھا بلکہ یہ درحقیقت ارادوں کی جنگ اور تہذیبی صلاحیتوں کا امتحان اور ایک سیاسی نظام کی تزویراتی گہرائی کی پیمائش تھی، جس میں کئی سطوح پر مشتمل رجیم چینج آپریشن، جیوپولیٹیکل کنٹرول اور اندر سے توڑ دینے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کا بے مثال مظاہرہ کیا گیا۔
اس معرکے سے حاصل ہونے والے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں رجیم چینج اور سیاسی نظام تبدیل کرنے پر مشتمل منصوبے، اعلیٰ ترین قیادت کے انتخاب میں مداخلت کرنے کی کوشش، اسٹریٹجک نوعیت کے حامل آبنائے ہرمز پر کنٹرول اور اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش اور ہائبرڈ طریقے سے ایران پر اپنا سیاسی ارادہ مسلط کرنے کی تگ و دو نہ صرف شدید حد تک ناکام ہوچکی ہے بلکہ اسے مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایران کے خلاف ظالمانہ جنگ میں عالمی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے نیز یورپی یونین کو اپنے ساتھ ہمراہ کرنے میں امریکہ کی واضح ناکامی، ایران میں خانہ جنگی شروع کروانے کی سازشیں ناکام ہو جانے نیز علیحدگی پسند گروہوں اور عناصر کا بے اثر ہو جانا بھی واضح ہے۔
مذکورہ بالا امور بھی امریکہ اور اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کی گئی انتہائی پیچیدہ ہائبرڈ جنگ کی شکست کے واضح ثبوت ہیں۔ ایسی ہائبرڈ جنگ جس کا نشانہ ایران کی قومی وحدت، اقتدار اور سیاسی ڈھانچہ تھا۔ اب یہ جنگ اسٹریٹجک ناکامی اور انتشار کے مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ فوجی شعبے میں دیکھا جائے تو ایران کی میزائل طاقت اور پروگرام جوں کا توں باقی ہے جبکہ اس کے فضائی دفاعی نظام میں بھی بہتری آئی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے ڈیٹرنس کے لیے انجام پانے والے موثر اقدامات کا نتیجہ یہ نکلا کہ صیہونی امریکی دشمن کے بڑے سے بڑے ہوائی حملے بھی ناکامی کا شکار ہوئے اور دشمن کو ایران کے آسمان پر فضائی برتری حاصل نہ ہوسکی۔
مزید برآں، امریکی صیہونی دشمن کی جانب سے ایران کے اندر نو گو ایریاز بنانے اور ہیلی برن کے ذریعے ایران کی حساس جوہری تنصیبات تک رسائی کی کوشش بھی بری طرح ناکامی کا شکار ہوئی اور طبس کا واقعہ ایک بار پھر دہرایا گیا۔ ان ناکامیوں سے دشمن کی جانب سے اعلان کردہ اسٹریٹجک اہداف اور زمین پر حاصل ہونے والے نتائج میں زمین آسمان کا فاصلہ دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف ایران کی عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے بے مثال مزاحمت کا نتیجہ قومی اتحاد میں فروغ، نرم اور سخت طاقت کا باہمی ملاپ اور حوصلے بلند ہو جانے کی صورت میں ظاہر ہوا ہے، جو بذات خود ایران کی ایک بڑی فتح اور دشمن کی ایک بڑی شکست ہے۔ ان حالات و واقعات نے علاقائی اور عالمی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کی ڈیٹرنس اور خودمختاری کے نئے افق تشکیل دے ڈالے ہیں۔


































