
نیویارک : امریکی ادارہ ڈیموکریسی فار دی عرب ورلڈ ناؤ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو جنگ کے آغاز سے اپنی سرزمین پر ہونے والے جرائم کے دائرہ اختیار کی اجازت دینے کا اعلان کرے۔ادارے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمر شاکر نے کہا کہ 28 فروری 2026 سے ایران میں جنگ کے دوران 150 سے زائد طلباء اور اساتذہ کے قتل اور نومولود بچوں سے بھرے اسپتالوں پر حملوں سمیت سنگین جنگی جرائم کی روز بروز شواہد سامنے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ افراد کو انصاف ملنا چاہیے اور اس کے لیے تمام قانونی طریقہ کار موجود ہیں، جس پر امریکا کا کوئی ویٹو اثر نہیں رکھتا۔ شاکر نے میناب اسکول پر حملے کی مثال دی، جس میں بیشتر متاثرہ لڑکیاں سات سے بارہ سال کی عمر کی تھیں، اور کہا کہ اس واقعے کے مکمل شواہد جمع، محفوظ اور اقوام متحدہ کے فیکٹ فائینڈنگ مشن اور مستقبل میں کسی بھی تحقیقی ادارے کے ساتھ بروقت شیئر کیے جائیں۔ انہوں نے تنقید کی کہ ایران کی حکومت جرائم کے بارے میں بلند آواز میں بات تو کرتی ہے لیکن جب شواہد محفوظ رکھنے اور انصاف کے راستے قائم رکھنے میں کوئی عملی قدم نہیں اٹھاتی تو اس کے دعوے بے اثر رہ جاتے ہیں۔ شاکر نے زور دیا کہ ایرانی حکومت شواہد کو محفوظ رکھے، ممکنہ جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ہر دستیاب طریقہ کار استعمال کرے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے ذریعے جواب دہی یقینی بنائے۔


































