
تہران: ایران نے کسی بھی معاہدے کے تحت اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر بیرونِ ملک منتقل کرنے کی تجویز مسترد کردی۔ ایرانی سپریم ڈیفنس کونسل کے رکن اور سپریم لیڈر کے مشیر ایڈمرل علی شمخانی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات صرف اسی صورت نتیجہ خیز ہوسکتے ہیں جب انہیں دھمکیوں اور غیر منطقی مطالبات کے ماحول سے دور رکھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی براہِ راست مذاکرات سے پہلے بالواسطہ بات چیت ہوگی۔ جلد فہم و فراست پیدا ہو جائے تو بات چیت براہِ راست مرحلے میں داخل ہو سکتی ہے۔
اس سے پہلے خبر رساں ادارے رائٹرز نے رپورٹ دی تھی کہ ترکیہ کی میزبانی میں ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر نئے مذاکرات جمعہ کو استنبول میں ہوں گے۔ مذاکرات کی قیادت امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کریں گے۔ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور دیگر ممالک کے نمائندے بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔


































