
جکارتہ: ایران اور انڈونیشیا نے ڈالر کے غلبے کو کم کرنے کے لیے مقامی کرنسیوں میں تجارت پر اتفاق کیا ہے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی نے انڈونیشیا کے دورے میں صدر جوکو ویدودو سے ملاقات کی اور دوطرفہ تعلقات اور تجارت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا اس موقع پر دونوں ممالک نے تجارت کا حجم 20 ارب ڈالر کرنے اور مقامی کرنسیوں میں تجارت پر اتفاق کیا ہے۔ اس موقع پر ایران اور انڈونیشیا نے 11 معاہدوں اور سمجھوتوں پر دستخط کئے۔ ایرانی صدر نے مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ ان کا دورہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں سنگ میل ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک فلسطین اور افغانستان سمیت مختلف عالمی مسائل پر متفقہ موقف رکھتے ہیں۔ انڈونیشیا ایک بڑے اور اہم اسلامی ملک کی حیثیت سے ایران کے لئے بہت اہم ہے۔ بیرونی پابندیاں ایران کو ترقی سے روکنے میں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ صدر رئیسی نے مزید کہا کہ ایران پر عالمی غیر منصفانہ پابندیوں کے باوجود ہمارے باصلاحیت جوانوں نے ملکی وسائل پر انحصار کرتے ہوئے مختلف شعبوں میں ترقی کے منازل طے کئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران میں خواتین کو تمام حقوق حاصل ہیں۔ افغانستان کی خواتین بھی باصلاحیت ہیں جو اپنے ملک اور امت مسلمہ کے لئے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ افغان خواتین کو اجتماعی امور اور تعلیمی میدان میں حقوق دینا چاہئے۔


































