
لندن: افغانستان میں برطانوی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں درجنوں ماورائے عدالت قتل کی تحققیات شروع کردی گئی ہیں۔
سینیئر جج چارلس ہیڈن کیف کی سربراہی میں تحقیقات کے دوران اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ کیا 2010 سے 2013 تک برطانوی اہلکاروں نے جان بوجھ کر حراستی کارروائیوں کے دوران غیر قانونی کام کیے تھے اور ماورائے عدالت قتل کی مصدقہ اطلاعات موجود ہیں۔ تحقیقات میں اس بات کا بھی جائزہ لیا جائے گا کہ کیا رائل ملٹری کی جانب سے تحقیقات مناسب طریقے سے کی گئیں اور کیا کسی غیر قانونی قتل پر پردہ ڈالا گیا۔ پہلے بھی اس قسم کی تحققیات ہوتی رہی ہیں لیکن وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ کسی بھی تحقیقات میں قانونی چارہ جوئی کے لیے کافی ثبوت نہیں ملے۔ جسٹس ہیڈن کیف نے الزامات کو انتہائی سنگین قرار دیا اور کہاکہ غیر قانونی ہلاکتوں کے الزامات کی انکوائری فوج اور ملک کی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے متعلق معلومات رکھنے والوں سے سامنے آنے کی اپیل کی۔


































