
انڈونیشیا نے ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ بورڈ آف پیس سے متعلق تمام مذاکرات معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی کے باعث یہ فیصلہ کیا گیا۔ انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی نے بورڈ آف پیس میں شامل ممالک کی خارجہ پالیسی کی ترجیحات کو براہِ راست متاثر کیا ہے۔ سوگیونو نے وضاحت کی کہ عالمی توجہ اب ایران کے ساتھ جاری تنازع کے اثرات پر مرکوز ہو گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انڈونیشیا خلیجی خطے کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت کرے گا کیونکہ وہ جاری حملوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی سے براہِ راست متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ بورڈ آف پیس میں شرکت سے متعلق تمام بات چیت عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ دوسری جانب انڈونیشیا کے اندر سیاسی اور مذہبی حلقوں نے بھی اس اقدام پر سخت تنقید کی ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی قیادت میں کسی اقدام میں شامل ہونا فلسطین کے حق میں جکارتہ کے دیرینہ مؤقف کو کمزور کر سکتا ہے۔


































