
نئی دہلی : ہندوستان کے شہر پریاگ راج میں مسلم لیڈر عتیق احمد اور بھائی اشرف کو میڈیا کے سامنے گولیاں مار کر قتل کردیا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے رہنما اور سابق رکن اسمبلی عتیق احمد پر حملہ پریاگ راج کے کالوین اسپتال کے سامنے ہوا۔ پولیس عتیق احمد اور ان کے بھائی کو لیکر طبی معائنہ کیلئے پہنچی تھی۔ عتیق احمد میڈیا سے بات کررہے تھے کہ ایک حملہ آور نے ان کے سرپر پستول رکھ کر گولی ماردی۔ ان کے نیچے گرنے پر حملہ آوروں نے اندھا دھند گولیاں برسائیں جس سے دونوں بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے۔ حملہ آوروں نے اطمینان سے کارروائی کی اور بھاگنے کے بجائے خود کو پولیس کے حوالے کردیا۔ حملہ آوروں نے جے شری رام کے نعرے لگائے۔ پورا واقعہ میڈیا کےسامنے پیش آیا۔ اور یہ واردات کیمرے میں قید بھی ہو گئی۔ واقعہ کے بعد پریاگ راج سمیت پورے اتر پردیش میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ صبح ہی جعلی انکاؤنٹر میں مارے گئے عتیق احمد کے بیٹے اسد کی تدفین عمل میں آئی تھی لیکن باپ کو بیٹےکے جنازے میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔


































