
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض افواج کے ظلم و تشدد اور غیر انسانی کارروائیوں کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہیں کیونکہ بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دینے کے جائز مطالبے کو دبانے کے لیے عصمت دری کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ذرائع کی جانب سے آج مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر جاری ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فورسز اہلکاروں نے مقبوضہ علاقے میں گزشتہ 38 برسوں کے دوران 11 ہزار 278 سے زائد کشمیری خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنن پوش پورہ، کپواڑہ میں 23فروری 1991ء کی شب اجتماعی عصمت دری کے سانحے کی طرح شوپیان میں دو کشمیری خواتین نیلوفر اور آسیہ کا اغوا، عصمت دری اور قتل، کٹھوعہ میں ایک نابالغ بچی کا قتل اور گھروں پر چھاپوں، محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں کے دوران عصمت دری اور گرفتاری کے دیگر واقعات سے بھارتی قابض افواج کا گھنائونا چہرہ بے نقاب ہوتا ہے جنہیں آرمڈ فورسز اسپیشل پاورزایکٹ جیسے کالے قوانین کے تحت انسانی حقوق کی پامالیوں کی کھلی چھوٹ حاصل ہے۔
29 مئی 2009ء کو شوپیاں کی دو خواتین آسیہ اور نیلوفر کو وردی میں ملبوس اہلکاروں نے اغوا کرنے کے بعد اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں قتل کر دیا۔ ان کی لاشیں اگلی صبح علاقے میں ایک ندی سے برآمد ہوئیں۔ جنوری 2018ء میں جموں کے علاقے کٹھوعہ میں ایک 8سالہ مسلم بچی آصفہ بانو کو بھارتی پولیس اہلکاروں اور فرقہ پرست ہندوں نے اجتماعی عصمت دری کا نشانہ بنایا۔ بھارتی فوجیوں نے 23 فروری 1991ء کی شب ضلع کپواڑہ کے علاقے کنن پوش پورہ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران سو سے زائد کشمیری خواتین کو اجتماعی بے حرمتی کا نشانہ بنایا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک مقبوضہ علاقے میں خواتین کے خلاف گھنائونے جرائم میں ملوث کسی بھی بھارتی فوجی یا پولیس اہلکار کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کشمیری کنن پوش پورہ میں اجتماعی عصمت دری کے ہولناک سانحے اور مقبوضہ کشمیر میں خواتین کی عصمت دری کے دیگر غیر انسانی واقعات کو کبھی نہیں بھلا سکیں گے۔رپورٹ میں خواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں آبروریزی کا نشانہ بننے والی کشمیری خواتین کے حق میں آواز بلند کریں۔ رپورٹ کے مطابق انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ کشمیر میں عصمت دری اور اجتماعی زیادتی کے متعدد واقعات کو دستاویزی شکل دی ہے۔ مسلح تنازعات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن پر رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں میں خواتین کی عصمت دری کو بطور ہتھیار استعمال کا سلسلہ بند کرائے اور دنیا کو جموں و کشمیر کے دیرینہ تنازعہ میں بھارتی فورسز کے جنسی تشدد کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔


































