
نئی دہلی : ہندوستان کے صوبے مدھیہ پردیش اور جھاڑ کھنڈ میں تین مسلمانوں کو وحشیانہ تشدد کرکے قتل کردیا گیا۔ مدھیہ پردیش کےعلاقے کھنڈوا کے چھائے گاؤں دیوی میں مسلم نوجوان شیخ فیروز کو ہندوتوا شرپسندوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ اسے تیزدھار ہتھیاروں سے زخم لگائے گئے اور اسے نالے میں پھینک دیا۔ صبح فیروز کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے جایا گیا۔ جہاں علاج کےدوران اس کی موت ہوگئی۔ ہندوتوا شرپسندوں نے فیروز پر چوری کا الزام لگایا تھا۔ علاقہ مکینوں نے لاش تھانے کے سامنے رکھ کر احتجاج کیا۔ صوبہ جھاڑکھنڈ کے علاقے رانچی میں بھی 20 سالہ مسلم نوجوان عبدالرحمن انصاری کو مار مار کر قتل کردیا گیا۔ واقعہ مہاتولی گاؤں میں پیش آیا جہاں اسے بجلی کے کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کیا گیا۔ رحمان کے والد نے بتایا بیٹے پر چوری کا الزام لگایا گیا لیکن اس کے پاس سے کچھ نہیں ملا۔ والد نے نو نامزد ملزمان کیخلاف مقمہ درج کرادیا۔ جس میں سے تین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ جھاڑ کھنڈ کے گاؤں خال میں 25 سالہ نوجوان وسیم سجاد کو پولیس نے ریت کا اسمگلر قرار دیکر حراست میں لیا اور بدترین تشدد کرکے قتل کردیا۔ والد کے مطابق وسیم ممبئی میں کام کرتا تھا اور وہ بہنوں کی شادی کے لئے گھر آیا ہوا تھا۔


































