
تل ابیب : وسطی ایشیائی مسلمان ریاست آذربائیجان نے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کردیا۔ تیس برس پر محیط سفارتی تعلقات کی بحالی کے اس موقع پر دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ بھی موجود تھے۔ اسرائیل نے آذربائیجان کے اس اقدام کو تاریخی قرار دیا ہے۔اپنے آذری ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں اسرائیلی وزیر خارجہ ایلی کوہن نے کہا کہ اسرائیل میں باکو کے سفارت خانے کا افتتاح دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے وزیر خارجہ جیہون بیراموف کے ساتھ معیشت، سلامتی، توانائی اور سائنسی ایجادات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد ہی ایک بڑے اقتصادی وفد کے ساتھ باکو کا دورہ کریں گے جو اسرائیل اور آذربائیجان کے درمیان تجارتی تعلقات مضبوط بنانے میں اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔ دونوں وزراء نے معیشت، توانائی، تعلیم، سائنس، ثقافت، کھیل اور دیگر شعبوں میں تعلقات کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔دریں اثناء اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سنہ 1991ء میں سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد پہلی بار آذربائیجان آج اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ کھول رہا ہے۔ اسرائیل دنیا کے پہلے ممالک میں سے ایک تھا جس نے دسمبر 1991 میں آذربائیجان کی آزادی کو تسلیم کیا اور 1993میں وہاں اپنا سفارت خانہ کھولا۔ آذربائیجان اسلامی دنیا کی سب سے بڑی یہودی برادریوں میں سے ایک ہے جہاں 18 ہزار کے قریب یہودی بستے ہیں۔


































