
نیویارک : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کی قرارداد بھاری اکثریت سے منظور کرلی۔
یاد رہے کہ جنرل اسمبلی نے پہلی مرتبہ براہ راست 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں حماس کی جانب سے عام شہریوں پر کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
اس اعلامیہ کے حق میں 142 رکن ممالک نے حمایت لیکن اسرائیل اور امریکا سمیت 10 ممالک نے مخالفت میں ووٹ دیا جب کہ 12 رکن ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ اسرائیل نے دو ریاستی حل سے متعلق اقوام متحدہ کا اعلامیہ مسترد کر دیا۔
فلسطین کی وزارتِ خارجہ نے دو ریاستی حل سے متعلق قرارداد کی بھاری اکثریت سے منظوری کا خیرمقدم کیا ہے۔
یہ قرارداد اقوام متحدہ کے آئندہ سربراہی اجلاس سے پہلے پیش کی گئی ہے، جس کی صدارت سعودی عرب اور فرانس مشترکہ طور پر 22 ستمبر کو نیو یارک میں کرینگے۔فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اعلان کیا ہے وہ اجلاس میں باضابطہ طور پر فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرینگے۔ کئی دیگر عالمی رہنماؤں نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے تاکہ اسرائیل پر غزہ میں جنگ کے خاتمے کیلئے دباؤ بڑھایا جا سکے۔
واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نے گزشتہ روز فلسطینی مغربی کنارے میں نئی متنازع آباد کاری کے توسیعی منصوبے پر دستخط کرتے ہوئے دو ریاستی حل کی طرف جانے اور فلسطینی ریا ست کو تسلیم کرنے کا انکار کیا اور کہا یہ زمین ہماری ہے اور ہم اپنا وعدہ پورا کرنے جارہے ہیں کہ یہاں کوئی فلسطینی ریاست نہیں بنے گی۔
یہ بھی یاد رہے کہ جنرل اسمبلی نے پہلی مرتبہ براہ راست حماس کی جانب سے 7 اکتوبر 2023 کو کیے گئے حملوں کی مذمت کی ہے۔


































