
تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر اخبار رای الیوم)
یمن میں اسلامی مزاحمت کی تنظیم انصاراللہ اب تک بحیرہ احمر میں کئی اسرائیلی، امریکی اور فرانسیسی کشتیوں کی نگرانی کر چکی ہے جن میں سے چند ایک پکڑ لی گئی ہیں۔ انصاراللہ یمن کے اس اقدام نے نہ صرف ان عرب حکومتوں اور فوجوں کو دباو کا شکار کر دیا ہے جو اب تک غزہ جنگ کے بارے میں خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں بلکہ غزہ پر جارح قوتوں کی شکست میں تیزی لانے کا بھی سبب بنا ہے۔ یوں انصاراللہ یمن کا یہ اقدام غزہ پر جارحیت ختم ہو جانے اور انسانی امداد کی غزہ منتقلی میں بھی مددگار ثابت ہو گا۔ یہ بذات خود اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے غزہ کے خلاف جاری گھیراو کو للکارنے کے مترادف ہے۔ یمن کی تحریک انصاراللہ اور صنعاء پر اس کی حکومت نے غاصب صیہونی رژیم کے خلاف فوجی اور تجارتی شعبوں میں سمندری گھیراو شروع کر رکھا ہے۔
یہ گھیراو نہ صرف اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم کے خلاف بلکہ اس کے حامی مغربی ممالک خاص طور پر امریکہ کے خلاف بھی ہے۔ انصاراللہ یمن نے آبنائے باب المندب، بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب کو غاصب صیہونی رژیم کی کشتیوں پر بند کر دیا ہے اور ایسی تمام کشتیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے جو اسرائیل کی طرف جا رہی ہوں۔ انصاراللہ یمن کی پابندیوں کی زد میں آنے کیلئے یہی کافی ہے کہ ایک تجارتی کشتی کی منزل اسرائیل ہو چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتی ہو۔ انصاراللہ یمن نے اپنے اس اقدام کا مقصد غزہ میں اسلامی مزاحمت کی حمایت اور اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے غزہ میں بیس لاکھ فلسطینیوں کی نسل کشی روکنا اعلان کیا ہے اور اب تک پوری طاقت اور قوت سے اپنی دھمکی پر عمل بھی کیا ہے۔ یمن کے برادران جو کہتے ہیں اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔
وہ غزہ کے شہداء اور ان کے اہلخانہ کو لبیک کہنے کیلئے نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کے خلاف بھی برسرپیکار ہونے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ تمام یمنیوں کیلئے فلسطین کاز مقدس ہے اور اس کا واضح ثبوت یمن کے مختلف شہروں میں فلسطین کے حق میں منعقد ہونے والے مظاہروں میں لاکھوں افراد کی شرکت ہے۔ جیسے ہی یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر یحیی سریع نے ٹی وی پر اعلان کیا کہ اسرائیل جانے والی تمام کشتیوں کو نشانہ بنایا جائے گا، یمن کی سکیورٹی فورسز نے تین ڈرون طیاروں کے ذریعے الحدیدہ ساحل کے قریب ایک فرانسیسی جنگی کشتی پر حملہ کر دیا۔ فرانسیسی حکام نے اس حملے کی تصدیق کی ہے۔ امریکہ نے اب تک خاموشی اختیار کی ہے اور کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔
اس خاموشی کا مقصد ایک تو اپنی سرگردانی اور کنفیوژن پر پردہ ڈالنا ہے جبکہ یمن کے خلاف کسی قسم کی انتقامی کاروائی کے ممکنہ سنگین نتائج کا بھی خوف ہے۔ یہ خوف اس بات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی حکام نے صیہونی رژیم پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے خلاف اپنی دھمکیوں پر عملدرآمد سے باز رہے۔ نیتن یاہو نے امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر مغربی ممالک کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف یمن کے سمندری گھیراو کو توڑنے کیلئے موثر اقدامات انجام دیں۔ اسرائیل کی قومی سلامتی کے مشیر جنرل تساجی ہنگبی نے دھمکی دی ہے کہ اگر عالمی برادری اس مطالبے پر توجہ نہیں دیتی تو اسرائیل خود یمن کو جواب دے گا۔ امریکہ شش و پنج میں پڑا ہے اور اس کی وجہ وائٹ ہاوس کا یہ پختہ یقین ہے کہ کہ یمن پر ہر قسم کی جارحیت کا سنگین نتیجہ ظاہر ہو گا۔
اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر اور بحرین میں اس کے فوجی اڈے یمنی میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا نشانہ بنیں گے۔ سب سے زیادہ تعجب انگیز بات یہ ہے کہ انصاراللہ یمن نے اسرائیلی دھمکیوں کا انتہائی مختصر جواب دینے ہوئے اعلان کیا ہے: "ہم جنگ کیلئے تیار ہیں تم آو”۔ انصاراللہ نے سعودی جارحیت کے خلاف آٹھ سال تک استقامت کا مظاہرہ کیا اور فوجی طاقت میں توازن نہ ہونے کے باوجود ہر گز اس کے سامنے نہیں جھکی اور ہزاروں یا شاید دسیوں ہزار بیلسٹک میزائل اور ڈرون طیاروں نیز سمندر میں مائنوں اور خودکش کشتیوں کے ذریعے اس کا مقابلہ کیا۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ انصاراللہ کی جانب سے اس کی تجارتی کشتیوں کو درپیش خطرہ سمندری گھیراو ہے۔ جبکہ اس نے خود گذشتہ سترہ برس سے غزہ کا گھیراو کر رکھا ہے اور حتی بنیادی ضروریات کی اشیاء بھی غزہ منتقل ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔
امریکی حکام اس وقت دو اہم امور کا جائزہ لے رہے ہیں: ایک انصاراللہ کو دوبارہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں ڈالنا اور دوسرا آبنائے باب المندب کھولے رکھنے کیلئے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں ایک ٹاسک فورس تشکیل دینا۔ نہیں معلوم ان میں سے کون سا مقصد پورا ہو گا لیکن واضح ہے کہ وہ ایسی غلطی کے مرتکب ہوں گے جس کی وارننگ پہلے دی جا چکی ہے اور وہ غزہ جنگ کو پھیلا کر اسے علاقائی جنگ میں تبدیل کر دینے پر مبنی ہے۔ اگر ایسی جنگ شروع ہوتی ہے تو اس میں ہار یمن کی نہیں بلکہ امریکہ کی ہو گی۔ کیونکہ یمنی جذبہ شہادت سے لبریز ہیں اور ان کے پاس کھونے کیلئے کچھ ہے ہی نہیں۔ علاقائی جنگ کی صورت میں یمن ایک اور عظیم فتح اپنے نام کر لے گا کیونکہ یمنیوں کیلئے زندگی یعنی عزت مندانہ اور فاتحانہ مزاحمت۔


































