
بغداد : عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی ایک بار پھر اقتدار کے قریب پہنچ گئے ہیں، شیعہ سیاسی اتحاد نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے لیے نامزد کر دیا ہے۔ شیعہ کوآرڈینیشن فریم ورک کے مطابق یہ فیصلہ اکثریتی ووٹ کے ذریعے تفصیلی اور طویل مشاورت کے بعد کیا گیا۔ اتحاد کے بیان میں کہا گیا کہ نوری المالکی کو ان کے سیاسی اور انتظامی تجربے اور ریاستی امور کے انتظام میں کردار کی بنیاد پر چُنا گیا۔ شیعہ اتحاد نے نوری المالکی کو سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کا امیدوار قرار دیا ہے۔
اس نامزدگی کے بعد عراق میں حکومت سازی کا عمل فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ادھر صدر کے انتخاب پر کرد جماعتوں کے درمیان اختلافات دور نہ ہوسکے۔
پیٹریاٹک یونین آف کردستان نے سابق وزیرِ ماحولیات نزار امیدی جبکہ کردستان ڈیموکریٹک پارٹی نے موجودہ وزیر خارجہ فواد حسین کو میدان میں اتارا۔ آئین کے تحت عراق میں وزیراعظم شیعہ اور صدر کرد ہونا ضروری ہے۔


































