
پشاور : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ میں نے آزاد عدلیہ کے؟ لیے جیل کاٹی، میں عدالت سے پوچھتا ہوں کہ رات کے اندھیرے میں عدالت کیوں لگائی، معزز ججز مجھے جواب دیں، میں نے کیا جرم کیا تھا کہ آپ نے رات کے 12 بجے عدالتیں لگائیں، میں نے آج تک قانون نہیں توڑا، میں نے کبھی قوم کو اداروں کے خلاف نہیں بھڑکایا، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی وزیر اعظم ہٹایا جاتا تھا تو پاکستان میں مٹھائیاں بانٹی جاتی تھیں مگر جب مجھے ہٹایا گیا تو ساری قوم پورے ملک کے تمام شہروں میں سڑکوں پر نکلی، آپ نے مجھے عزت دی میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ یہ لوگ سمجھتے تھے کہ عوام امپورٹڈ حکومت تسلیم کرلے گی، قوم نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ امپورٹڈ حکومت نا منظور ہے۔ آج قوم کو فیصلہ کرنا ہےکہ ہم امریکا کے غلام بننا چاہتے ہیں یا ہمیں حقیقی آزادی چاہیے،امریکیوں نے بڑے ڈاکوؤں کو مسلط کر کے ملک کی توہین کی۔ سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم غیروں کی حکومت کو نہیں مانتے، یہ باہر سے مسلط شدہ تمام لوگ ضمانتوں پرہیں، شہباز شریف اور اس کا بیٹاضمانت ہر ہے، سارا شریف خاندان ضمانتوں پر ہے۔ شہباز شریف پر اربوں روپے کی کرپشن کے کیسز ہیں، جس دن پی ٹی آئی نے کال دی اس دن شہباز شریف کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ کان کھول کر سن لو، یہ وہ 1970 کا پاکستان نہیں جب امریکا نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کی، اب یہ نیا با شعور پاکستان ہے، پاکستان میں 6 کروڑ موبائل فونز ہیں، ان کے منہ بند نہیں کرائے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ جب امریکا نے پاکستان میں ڈرون حملے کیے تو نواز شریف کے منہ سے آواز نہیں نکلی کیونکہ یہ امریکا کے غلام ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مراسلے میں کہا گیا کہ عمران خان نہ رہے تو تمام غلطیاں معاف کردیں گے۔ امریکیوں ہمیں تمہاری معافی کی ضرورت نہیں، تم ہوتے کون ہو، غلاموں کے خلاف باہر نکلنا ہے۔ اداروں سے پوچھتا ہوں کہ ان چوروں، لٹیروں کی موجودگی میں جن کی تمام دولت بیرون ملک پڑی ہے جو امریکا کے غلام ہیں کیا یہ نیو کلئر پروگرام کی حفاظت کرسکتے ہیں۔ عمران خان نے کہا کہ کیا یہ نیو کلیئر پروگرام کی حفاظت کرسکتے ہیں۔


































