
تحریر: منظوم ولایتی
وائس آف نیشن کے زیر انتظام استقبالِ محرم الحرم کے حوالے سے ایک آن لائن کانفرنس بعنوان "حسینؑ محسن انسانیت” منعقد ہوئی۔ جس سے مختلف نامور شخصیات، علماء کرام اور اہل علم و اصحاب قلم نے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے پہلے خطیب کراچی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر جواد حیدر ہاشمی صاحب نے کہا کہ امام حسینؑ تمام انبیاء علیہم السلام کی زحمات کے محافظ ہیں اور چونکہ انبیاءؑ انسانیت کی نجات کیلئے بھیجے گئے ہیں اور آپؑ نے انبیاءؑ کی ذمہ داریوں کو اپنی جان دے کر بچایا ہے، پس حسینؑ محسن انسانیت قرار پاتے ہیں۔
کانفرنس سے خطاب فرماتے ہوئے معروف اسلامی اسکالر مفتی امجد عباس نے کہا کہ انبیاءؑ کے بھیجے جانے کے دو بڑے اہداف ہیں، ایمان باللہ اور عدل اجتماعی کا قیام ہر زمانے کا نبیؑ اپنی اِن ذمہ دارویوں کو انجام دینے کیلئے کمرپستہ رہا۔ امام حسینؑ کے تاریخی قیام نے ظالموں کے خلاف استقامت کا عملی درس دے کر انسانیت کو ظلم کے خلاف میدانِ عمل میں اترنے اور عدل اجتماعی کے قیام کی کوششوں کی طرف رہنمائی کی، یہی وجہ ہے کہ گاندھی سے لیکر نیلسن منڈیلا تک مختلف اقوام کی سرکردہ شخصیات آپؑ سے درس لیتی نظر آتی ہیں۔
آن لائن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مجلہ ‘راہ استنباط’ کے مدیر اور نامور محقق سکندر علی بہشتی نے کہا کہ ماہ محرم الحرام ایثار، قربانی اور راہ خدا میں امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب باوفا کی شہادت کا پیغام لے کر ایک پھر آپہنچا ہے، اس مہینے میں اہل منبر و قلم اور معاشرے کے ذمہ دار شخصیات کو فلسفہ عاشورا اور امام عالی مقامؑ کے اہداف و مقاصد کی جانب توجہ دلانا چاہیئے، اس سلسلے میں چند نکات کی طرف اشارہ کروں گا۔ آپ نے مزید کہا کہ امام نہ صرف مسلمانوں کے لئے بلکہ انسانیت کے لئے نمونہ عمل ہیں کیونکہ آپ نے انسانی اقدار اور دین کے احیاء کے لئے قیام کیا، امام حسین علیہ السلام کی تحریک قرآن و سنت اور اسلامی تعلیمات کو زندہ کرنے کی خاطر تھی۔
سکندر علی بہشتی نے کہا کہ کربلا کسی خاص گروہ، مسلک اور سوچ و طبقے سے مخصوص نہیں بلکہ تمام مسلمانوں بلکہ تمام بشریت کیلئے مشعلِ راہ ہے، قیامِ کربلا کو سمجھنے کے لئے مستند منابع کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کے مفکرین و مصلحین کے افکار کی جانب بھی توجہ ضروری ہے، امام خمینیؓ، رہبر انقلاب، شہید مطہریؓ، شہید عارف حسینیؓ جیسی شخصیات نے کربلا کے عملی پہلوں پر توجہ دی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امام کے قیام کا اہم مقصد انحراف و بدعات کا مقابلہ و خاتمہ تھا، اس وقت معاشرے میں دین و عزاداری کے نام پر مختلف انحرافات نے مکتب اہل بیت علیہم السلام کا اصل چہرہ اوجھل کردیا ہے، اس لیے ان تحریفات و بدعات سے مقابلہ بھی از بس ضروری ہے۔
کانفرنس سے اپنے خطاب میں نامور کالم نگار و تجزیہ نگار ڈاکٹر ندیم عباس بلوچ نے کہا کہ تقریباً محرم و صفر میں پیروانِ مکتب اہل بیت علیہم السلام عزاداری مناتے ہیں، اہل قلم، اہل منبر اور دیگر ذمہ دار افراد کو عزاداری اور امام عالی کے ذکر اور امام کی عملی سیرت سے اس وقت معاشرے کو درپیش اجتماعی و سیاسی مسائل کا حل نکالنے پر توجہ دینا ہوگا، جس کے لئے ہمیں عزاداری کا اصلاحی و عملی پہلو کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ آخر میں کانفرنس کے منتظم منظوم ولایتی نے تمام مہمانوں اور خصوصی طور پر شرکاءِ کانفرنس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کانفرنس کو اپنے اختتام تک پہنچایا۔


































