
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کوئی بھی نئی جنگ علاقائی ہوگی۔ امام خمینی حسینیہ میں عوام کے بڑے اجتماع سے خطاب میں آیت اللہ خامنہ ای نےکہا کہ جنگ اور فوجی طاقت کے حوالے سے امریکا کا حالیہ لہجہ کوئی نئی بات نہیں۔ امریکیوں کو جان لینا چاہئے کہ دھمکیاں اور فوجی طاقت کا مظاہرہ ایرانی قوم کو مرعوب نہیں کرسکتا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی امریکی حکام ایران کو یہ کہہ کر دھمکاتے رہے ہیں کہ تمام آپشنز میز پر ہیں، جن میں جنگ کا آپشن بھی شامل ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہم جنگ شروع کرنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی کسی ملک پر حملہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اگر کسی نے ایرانی قوم پر حملہ کیا یا اسے ہراساں کیا تو ایران بھرپور اور سخت ضرب لگائے گا۔
انہوں نے ایران میں حالیہ ہنگاموں کو کُو جیسی سازش قرار دیا اور کہا کہ اس منصوبے کا مقصد ملک کو چلانے والے حساس اور مؤثر اداروں کو تباہ کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے پولیس اسٹیشنوں، سرکاری عمارتوں، اسلامی انقلاب گارڈز کور (آئی آر جی سی) کے مراکز، بینکوں اور مساجد کو نشانہ بنایا، حتیٰ کہ قرآنِ مجید کو بھی نذرِ آتش کیا، تاہم یہ سازش بالآخر ناکام بنا دی گئی۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایرانی عوام نے حالیہ امریکی۔ صیہونی فتنہ کو بھی اسی طرح خاک میں ملا دیا جیسے وہ ماضی کی سازشوں کو ناکام بنا چکے ہیں، اور آئندہ بھی کسی بھی چیلنج کا فیصلہ کن مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی ایک نمایاں خصوصیت ملک کو اس کے اصل مالک، یعنی عوام، کے حوالے کرنا اور ایران سے امریکی اثر و رسوخ کا خاتمہ تھا، اور یہی بات ابتدا ہی سے واشنگٹن کو ناراض اور بے چین کرتی رہی، جس کے باعث وہ ایرانی قوم اور نظام سے دشمنی پر اتر آیا۔ ایران کی مختلف شعبوں میں پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کبھی کسی نے یہ تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ایک دن ایرانی قوم اس مقام پر پہنچ جائے گی کہ امریکی، ایران کے تیار کردہ ہتھیاروں کی نقل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں خود اعتمادی، امید اور بلند حوصلے کا نتیجہ ہیں جو امام خمینیؒ نے قوم میں پیدا کیے۔ انہوں نے امام خمینیؒ کو امید اور خودی کی علامت قرار دیا جنہوں نے قوم کو جدوجہد اور ترقی کی راہ دکھائی۔ ولی امر مسلمین نے امریکی صدر کے بیانات کو حالیہ بدامنی کے امریکی اور صیہونی کردار کا واضح ثبوت قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے کھلے عام ہنگامہ آرائی کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہ آگے بڑھو، میں بھی آ رہا ہوں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ کا نیا طرزِ فکر اور عالمی غنڈہ گرد طاقتوں کے مفادات سے اس کا ٹکراؤ اس مسلسل دشمنی کی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیسے حالیہ فتنہ پہلا نہیں تھا، ویسے ہی آخری بھی نہیں ہوگا اور آئندہ بھی ایسے واقعات پیش آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ دشمنیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ایرانی قوم ثابت قدمی اور اپنے معاملات پر مکمل اختیار کے ذریعے دشمن کو مایوس نہیں کر دیتی۔ بدامنی کے سرغنوں کی جانب سے ہلاکتوں میں اضافے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان نادان نوجوانوں کی ہلاکت پر دل دکھتا ہے جو اس فتنہ کا شکار ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہلاکتوں کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرنا چاہتے تھے اور چاہتے تھے کہ یہ تعداد اس سے بھی زیادہ ہو، جبکہ موجودہ تعداد بھی انتہائی افسوسناک ہے۔ ولی امر مسلمین نے کہا کہ سازش کرنے والوں کا مقصد عوام کو نظام کے خلاف کھڑا کرنا تھا، لیکن 12 جنوری کو عوام کی بھرپور موجودگی نے ان کے منہ پر زوردار طمانچہ مارا اور ایرانی قوم کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا۔ امریکی صدر کے ماضی کے اس اعتراف کا حوالہ دیتے ہوئے کہ واشنگٹن نے داعش کو پیدا کیا تھا، آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ حالیہ ہنگاموں میں بھی امریکیوں نے داعش جیسی ایک قوت کھڑی کی، جس نے انتہائی وحشیانہ کارروائیاں کیں، جن میں لوگوں کو زندہ جلانا اور سر قلم کرنا شامل تھا۔ خطاب کے اختتام پر ولی امر مسلمین نے کہا کہ ایران کے خلاف امریکا کی دہائیوں پر محیط دشمنی کو دو لفظوں میں سمیٹا جا سکتا ہے۔ امریکا ایران کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے، لیکن ایرانی قوم اور اسلامی جمہوریہ اس کے راستے میں کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے وسائل اور اس کی اسٹریٹجک حیثیت امریکی لالچ کی بنیاد ہیں، جبکہ انسانی حقوق جیسے دعوے محض بے معنی باتیں ہیں۔


































