
پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ آئین کی حفاظت کرنے والا ادارہ ہے۔ ہم نے اپنی حکومتیں قربان کیں تاکہ بحرانوں سے نکلا جائے سپریم کورٹ نے اس پر سو موٹو لیا۔ یہ وہی جج صاحبان ہیں جنہوں نے ہمارے خلاف بھی فیصلے دیے۔
قوم سے ویڈیو لنک پر خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ مجھے خطرہ ہے کہ یہ لوگ اکتوبر میں الیکشن نہیں کرائیں گے، یہ چاہتے ہیں کسی طرح میں جیل جاوں یا نااہل ہو جاؤں تو پھر الیکشن کرائیں۔
سزا یافتہ مفرور لندن میں بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہے، قوم کھڑی نہ ہوئی تو ملک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔ یہ وہ وقت ہے اگر قوم آئین اور قانون کے ساتھ نہ کھڑی ہوئی تو یہ ملک کو اس نہج پر لیجائیں گے جورہنے کے قابل نہیں ہوگا، ہم سب کو آئین اور قانون کے لیے سڑکوں پر نکلنا چاہیے ، سب کو کہتا ہوں یہ حقیقی آزادی کے لیے جہاد ہے۔
الیکشن التوا کیس سے متعلق انہوں نے کہا کہ آئین میں یہ بات واضح ہے کہ انتخابات 90 روز میں ہی ہونے چاہیں۔
انہوں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ الیکشن سے خوفزدہ ہوکر عدلیہ کے خلاف جارہے ہیں۔ اگر کوئی فیصلہ ان کے حق میں آئے تو درست ورنہ سب غلط ہے۔ انہیں نظر آرہا ہے کہ الیکشن ہوگا تو انکی سیاسی موت ہوجائے گی۔ الیکشن کے انعقاد تک ملک میں استحکام نہیں آسکتا اور جب تک ملک میں استحکام نہیں آئے، ملک ترقی نہیں کرسکتا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا مزید کہنا تھا کہ جس ملک میں انصاف ہوتا ہے، وہ خوشحال ہوتا ہے اور جہاں جنگل کا قانون ہوتا ہے وہاں قومیں پیچھے رہ جاتی ہیں۔ یہاں آٹے کی لائنوں میں لوگ مر رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ قانون کی حکمرانی میں پاکستان 141 نمبر پر ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی حکومت میں بھی چن کر وہ لوگ ہیں جو ہمارے مخالف ہیں۔ جب سے ہماری حکومت گئی ہمارا میڈیا بلیک آؤٹ کیا گیا۔ رکاوٹوں کے باوجود مینار پاکستان پر ہمارا تاریخی جلسہ ہوا۔
عمران خان نے کہا کہ میڈیا پر انہوں نے ہمارا بلیک آؤٹ کروایا۔ جلسہ سوشل میڈیا نے دکھایا، اب یہ سوشل میڈیا پر ہمارے خلاف بلیک آؤٹ کی کوشش کر رہے ہیں، اس لیے یہ ہمارے سوشل میڈیا کارکنوں کو اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر 140 کیسز بنا دیے، ان ہی لوگوں نے مجھ پر حملہ کروایا جو اوپر بیٹھے ہیں۔ اگر یہ لوگ ملوث نہیں تھے تو جے آئی ٹی کا ریکارڈ کیوں تباہ کیا، اس حکومت پر کوئی اعتبار نہیں کر رہا یہ جرائم پیشہ لوگوں کی حکومت ہے۔


































