
جکارتہ : دنیا کے سب سے بڑے مسلم اکثریتی ملک انڈونیشیا کے صدر نے قوم کو فریب دیا ہے کہ اگر بورڈ آف پیس سے فلسطینیوں کو فائدہ نہ پہنچا تو اس سے علیحدہ ہو جائیں گے۔ انڈونیشین صدر نے مقامی اسلامی تنظیموں کے رہنماؤں سے ملاقات کی جس میں انہوں نے اس بورڈ میں شمولیت کے فیصلے کی وضاحت کی۔ صدر نے یقین دہانی کرائی کہ اگر اس پلیٹ فارم سے فلسطین یا انڈونیشیا کے قومی مفادات کو فائدہ نہ پہنچا تو حکومت غزہ بورڈ آف پیس سے فوری طور پر دستبردار ہو جائے گی۔
انڈونیشیا کے صدر نے واضح کیا ہے کہ اگر انہیں محسوس ہوا کہ یہ اقدام فلسطینی مفاد میں نہیں یا انڈونیشیا کے قومی مفادات سے مطابقت نہیں رکھتا تو وہ فوراً بورڈ سے علیحدگی اختیار کر لیں گے۔انڈونیشیا کی اس بورڈ میں شمولیت اور غزہ میں استحکام کے لیے ممکنہ فوجی دستہ بھیجنے کے فیصلے پر ملک کے ماہرین اور مذہبی حلقوں کی جانب سے تنقید سامنے آئی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے فلسطینی کاز کی طویل عرصے سے جاری انڈونیشی حمایت متاثر ہو سکتی ہے۔
اس سے قبل انڈونیشیا کی علما کونسل نے مطالبہ کیا تھا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں امریکا کے کردار کے باعث انڈونیشیا کو اس بورڈ سے الگ ہو جانا چاہیے۔


































