
تہران: ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے کہا ہے کہ اگر دوبارہ جنگ شروع ہوئی تو بحرِ ہند میں موجود امریکی بحری جہازوں کو، نشانہ بنایا جائے گا۔ ہم نے یہ صلاحیتیں حاصل کر لی ہیں۔ ہم نے اپنے ہائپرسونک میزائلوں کی رفتار میک 6 سے بڑھا کر میک 10 کر دی ہے۔ ہم نے اپنی الیکٹرانک جنگی صلاحیتوں کو بھی ترقی دی ہے، فضائی دفاع کو بہتر بنایا ہے اور دیگر اقدامات بھی کیے ہیں جنہیں مناسب وقت پر استعمال کریں گے۔ لہٰذا ہم مکمل طور پر تیار ہیں۔ اگر امریکا جنگ شروع کرتا ہے تو ہم امریکا کا زیادہ طاقت کے ساتھ، زیادہ تعداد میں اور زیادہ تکلیف دہ حملوں کے ذریعے مقابلہ کریں گے اگر امریکی سنجیدہ ہیں تو اپنے فوجیوں کو بھیجیں اور ایران میں داخل ہوں۔ وہ ایسا کیوں نہیں کرتے.
انہوں نے کہا کہ امریکی فضائی دستے کیوں نہیں آتے؟ امریکی زمینی افواج ایران میں داخل کیوں نہیں ہوتیں؟ وہ صرف فضا سے بمباری کرکے واپس کیوں چلے جاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ تمام عرب ممالک اور تمام ہمسایہ ممالک سے کہتا ہوں کہ اگر امریکا ہماری تجارتی اور مالیاتی روابط میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تو ہم دو اقدامات کریں گے. محسن رضائی نے کہا کہ ہم یقینی طور پر امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنائیں گے اور کہیں گے کہ امریکی معیشت پر حملہ، ایران کی معیشت پر امریکی حملے کا جواب ہے؛ حملے کا جواب حملے سے دیا جائے گا۔ دوسری جانب ہم ہمسایہ ممالک سے بھی کہتے ہیں کہ امریکا کے ساتھ تعاون نہ کریں، کیونکہ ہم اسی انداز میں جواب دیں گے۔ اگر کوئی ہمسایہ ملک ایران پر اقتصادی ناکہ بندی عائد کرنے میں امریکا کے ساتھ تعاون کرتا ہے، مثلاً مالیاتی معاملات اور ایران سے متعلق سرگرمیوں میں، تو ہم آبنائے ہرمز میں اس ملک کے بحری جہازوں کو سزا دیں گے۔ محسن رضائی نے کہا کہ ہم ان کی نقل و حرکت اور آمدورفت پر پابندیاں عائد کریں گے اور ان کی بعض سرگرمیوں کو محدود کریں گے، یا اقتصادی تعاون کے معاملے میں اسی نوعیت کا جوابی اقدام کریں گے۔
محسن رضائی نے عرب حکام سے سوال کیا کہ اگر ایران نے مزاحمت نہ کی ہوتی اور اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا جاتا تو کیا آج اسرائیل سعودی عرب پر حملہ نہ کرتا؟ کیا اسرائیل دمشق تک پیش قدمی نہ کرتا؟ کیا اسرائیل عراق پر حملہ نہ کرتا؟ ہم نے یہاں اپنے شہداء پیش کیے ہیں اور ہم عرب ممالک کا دفاع کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے ایران میں امریکا اور اسرائیل کو شکست نہ دی ہوتی، اور اگر انہیں ایران میں کامیابی حاصل ہونے کا احساس ہو جاتا، تو خطے میں ان کے مقابل کھڑے ہونے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اسرائیل تمام عرب ممالک پر حملہ کرتا اور امریکا اس کی حمایت کرتا۔ ہم نے مزاحمت کی. ہاں، ہم نے اپنے ملک کا دفاع کیا لیکن ہماری دفاعی مزاحمت سے عرب ممالک کو بھی فائدہ پہنچا۔
محسن رضائی نے کہا کہ ہمارے انصار اللہ کے ساتھ تعاون کو مداخلت قرار دیا جاتا ہے، لیکن سعودی عرب جو کچھ کرتا ہے اسے مداخلت نہیں کہا جاتا. ہم جو کچھ کرتے ہیں اسے مداخلت قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ ہم اس مسئلے کو ختم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ سعودی عرب ہی وہ فریق ہے جو اس مسئلے کو ختم نہیں کرنا چاہتا. محسن رضائی نے کہا کہ یمن میں ایک انقلابی حکومت قائم ہو چکی ہے۔ سعودی عرب کو اس کی طرف بڑھنا چاہیے، دونوں ممالک کو دوست اور بھائی بن جانا چاہیے اور مل کر کام کرنا چاہیے۔ ہم جو کچھ بھی کر سکتے ہیں، ان کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔
محسن رضائی نے کہا کہ عرب ممالک کو امریکا کو مکمل طور پر روکنا چاہیے اور اسے کہنا چاہیے کہ آپ کو ہماری سرزمین سے ایران پر بمباری کے لیے پروازیں شروع کرنے کا کوئی حق نہیں۔ محسن رضائی نے کہا کہ ہم اپنے دفاع کے معاملے میں سنجیدہ ہیں۔ اس مرتبہ اگر جنگ شروع ہوئی تو ہم ان تمام امریکی فضائی اڈوں کو زیادہ شدت سے نشانہ بنائیں گے جہاں سے وہ طیارے پرواز کرتے ہیں۔ ہم ان پر زیادہ طاقت کے ساتھ حملے کریں گے۔

































