
- پیارے بیٹے! کیا آپ کو یاد ہے کہ جب ہم نے کل ایک دکان سے بلب خریدا تھا تو ہم نے اسے آکر چیک کیا تھا کہ یہ صحیح ہے یا نہیں؟ کیا آپ کو یاد ہے جب میں نے آپ کے بھائی کے لیے چابی والی گاڑی خریدی تھی تو ہم نے دکان والے سے کہا تھا کہ ایک بار اس کو چلا کر دکھائے تاکہ ہم ادھر ہی دیکھ لیں کہ یہ صحیح ہے یا نہیں؟ اسی طرح جب غبارے بیچنے والے اسے بیچنے سے پہلے ایک بار یہ معلوم کرنے کے لیے کہ اس میں سوراخ ہے یا نہیں، ہوا بھرتے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم ہے کہ جب کوئی یونیورسٹی میں داخلہ لینا چاہتا ہے تو وہاں پر اس سے ایک امتحان لیا جاتا ہے کہ وہ یونیورسٹی میں پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہے یا نہیں؟
اسی طرح وہ جوان جن کو پائلٹ بننے کا شوق ہوتا ہے ان کی قابلیت معلوم کرنے کے لیے ان سے سخت امتحان لیے جاتے ہیں۔
میرے عزیز! یہ مثالیں جو میں نے ابھی آپ کو دی ہیں اس سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ امتحان کا مقصد علم اور آگہی حاصل کرنا ہے یعنی امتحان کے ذریعے ہی پتہ چلتا ہے کہ کس میں کتنی صلاحیت ہے؟
ہمارا امتحان لینا ہمارے علم کی کمی اور محدود ہونے کی وجہ سے ہے لیکن خدا کی آزمائشیں ہم انسانوں کی آزمائشوں سے مختلف ہیں۔ اگر خدا کسی کا امتحان لیتا ہے تو اس کا مقصد اس شخص کے بارے میں معلومات اکٹھی کرنا نہیں بلکہ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے علم کی کوئی حد نہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل سب سے باخبر ہے۔
میرے پیارے بچے! خدا کا علم لوگوں کے علم سے مختلف ہے۔ اسی سلسلے میں امام علی علیہ السلام نے فرمایا: "ہر عقلمند پہلے جاہل تھا پھر علم سیکھا لیکن خدا نہ تو جاہل تھا اور نہ ہی اس نے اپنا علم کسی سے سیکھا ہے۔”
خدا لوگوں کو آزماتا ہے تاکہ ہر شخص کو یہ دکھا سکے کہ وہ اپنی زندگی میں اچھا راستہ چنتا ہے یا برا راستہ تاکہ وہ قیامت کے دن یہ کوئی بہانہ نہ بنائے اور خدا کو یہ نہ کہے کہ اگر تو نے مجھے آزمایا ہوتا تو میں نیک عمل کرتا۔
امام علی علیہ السلام اس حوالے سے فرماتے ہیں کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان سے بہتر جانتا ہے لیکن وہ ان کو مال و اولاد سے آزماتا ہے تاکہ وہ اعمال ظاہر ہو جائیں جو جزا یا سزا کا باعث بنتے ہیں۔
خدا جانتا ہے کہ ہم کیا کریں گے لیکن اس نے ہمیں اختیار بھی دیا ہے کہ کیا ہم آزمائش میں کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں؟ یہ مہربان خدا کی کرم نوازی ہے کہ وہ تمام لوگوں کو آزمائش کا موقع دیتا ہے اور اپنے علم کی بنیاد پر انہیں سزا نہیں دیتا حالانکہ وہ ہر چیز سے باخبر ہے لیکن پھر بھی وہ ہم سے آزمائش کا موقع نہیں چھینتا۔
یاد رکھیں! خدا وند عالم کا ہمارے آئندہ اعمال سے باخبر ہونا ہمارے مجبور ہونے اور اختیار کے چھن جانے کا سبب نہیں بنتا۔
🤲🏻 خداوند عالم کی بارگاہ میں میری دعا ہے کہ آپ اپنی زندگی کے امتحانات میں کامیاب ہوں اور صحیح راستے کا انتخاب کرتے ہوئے اہنی زندگی کو گزاریں۔


































