
دوحہ : حماس کے سیاسی رہنما خالد مشعل نے غزہ میں فلسطینی مزاحمتی دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے مطالبات مسترد کر دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی قبضے کی موجودگی میں اسلحہ چھیننا فلسطینیوں کو آسان شکار بنا دے گا۔ دوحہ میں الجزیرہ فورم سے خطاب میں خالد مشعل نے کہا کہ فلسطینی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی بحث ایک صدی سے جاری اس کوشش کا تسلسل ہے جس کا مقصد مزاحمت کو ختم کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک قبضہ برقرار ہے، اسلحہ چھوڑنے کی بات فلسطینی عوام کو صیہونی ریاست کے سامنے بے بس کر دے گی جو جدید بین الاقوامی ہتھیاروں سے لیس ہے۔ خالد مشعل کے مطابق اصل ضرورت ایسے ماحول کی ہے جو غزہ کی تعمیرِ نو، انسانی امداد اور جنگ کے دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کی ضمانت دے۔ انہوں نے کہا کہ حماس نے قطر، ترکی اور مصر کے ذریعے ثالثی میں اور امریکا کے ساتھ بالواسطہ رابطوں کے دوران اپنی حکمتِ عملی پر فہم پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ یہ نہیں کہ حماس یا مزاحمتی قوتیں ضمانتیں نہیں دیتیں، بلکہ اصل مسئلہ اسرائیل ہے۔ خالد مشعل کے مطابق اسرائیل فلسطینی ہتھیار چھین کر انہیں مسلح گروہوں کے ہاتھ میں دے کر غزہ میں انتشار پھیلانا چاہتا ہے۔


































