Sun Oct 11, 2026

آئی سی سی نے امریکی پابندیاں مسترد کر دیں امریکا نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کردیں امریکی حکام تہذیبی جنگ کا بیانیہ بنانے سے قبل ماضی کے واقعات کا مطالعہ کریں، محسن رضائی ٹرمپ نے ایران سے جنگ چھیڑ کر امریکا کو رسوا کیا، امریکی سینیٹر گلگت بلتستان کے وسائل پر کسی بیرونی طاقت کو اثر انداز نہیں ہونے دیں گے، مرکزی انجمن امامیہ ٹرمپ کی پھر رسوائی، امن کا نوبل انعام انسانی حقوق کی وکیل ناوی پلے کے نام آبنائے ہرمز میں ایل پی جی گیس بردار جہاز پر حملہ، آگ لگ گئی پاکستان ہر خطرے کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا، وزیراعظم سعودی عرب انصار اللہ کے خلاف جنگ میں ایک بار پھر ماضی کے دلدل میں داخل ہو چکا ہے، نیویارک ٹائمز طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ

روزانہ کی خبریں

اصل دہشتگرد کو پہچانیں

تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی

امریکہ ایک ایسا ملک ہے، جس کے قیام کو تقریباً 240 سال ہوچکے ہیں اور اس ملک کی زندگی کا 93% یعنی 222 سال دنیا بھر کے مختلف ممالک کے خلاف جنگ اور جارحیت میں گزرے ہیں۔ اسلام ٹائمز کے قارئین کے لئے ایک فہرست پیش خدمت ہے، جس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ 20ویں صدی کے آغاز سے اس جنگجو و جارح ملک کے جرائم اور جنگیں کتنی ہیں۔ دوسری طرف ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ ہر آئے دن وہ اپنے مخالفین بالخصوص ایران اور مزاحمتی بلاک کی تنظیموں اور اداروں کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرتا رہتا ہے۔

ایک اجمالی فہرست ملاحظہ فرمائیں۔
1901ء، کولمبیا میں براہ راست امریکی فوجی مداخلت
1902ء، پانامہ پر حملہ
1904ء، کوریا اور مراکش میں فوجی مداخلت
1905ء، ملک کے انقلاب کے خلاف ہونڈوراس میں فوجی مداخلت
1905ء، میکسیکو پر حملہ (اس ملک میں عوامی بغاوت کو دبانے میں اس وقت کے آمر بوروویریو ڈیماز کی مدد کے لیے فوجی مداخلت)
1907ء، نکاراگوا پر حملہ
1907ء، اس جمہوریہ کے انقلاب کو دبانے کے لیے ڈومینیکن ریپبلک میں فوجی مداخلت
1907ء، ہونڈوراس اور نکاراگوا کے درمیان جنگ میں شرکت
1908ء، پانامہ کے انتخابات میں عملی مداخلت

1910ء، نکاراگوا کی حکومت کے خلاف بغاوت کو دبانے کے لیے فوجی مداخلت
1911ء، منتخب صدر میگوئل ڈیویا کے خلاف مینوئل بونیلا کی قیادت میں بغاوت کی حمایت کے لیے ہنڈوراس میں فوجی مداخلت۔
1911ء، فلپائن میں امریکہ مخالف بغاوت کو دبانے کے لئے فوجی مداخلت
1911ء، چین میں مداخلت
1912ء، کیوبا پر حملہ اور قبضہ
1912ء، پانامہ پر حملہ
1912ء، ہونڈوراس پر حملہ
1912ء، 1933ء، نکاراگوا پر قبضہ
1914ء، 1934ء، ہیٹی پر 19 سال تک امریکہ کا قبضہ۔
1916ء، 1924، ڈومینیکن ریپبلک پر 8 سال تک قبضہ
1917ء، 1933ء، کیوبا پر قبضہ۔

1917ء، 1918ء، پہلی جنگ عظیم میں شرکت
1918ء، 1922ء، روس میں مداخلت
1918ء، 1920ء، پانامہ میں فوجی داخلہ
1919ء، کوسٹا ریکا میں فوجی داخلہ
1919ء، ہونڈوراس پر حملہ
1920ء، گوئٹے مالا پر حملہ
1921ء، کارلوس گوریرو کے خلاف مسلح گروپوں کی امریکی حمایت
1922ء، ترکی میں مداخلت
1922ء، 1927ء، چین میں فوجی مداخلت
1924ء، 1925ء، ہونڈوراس پر حملہ
1925ء، پانامہ پر حملہ
1926ء، نکاراگوا پر حملہ
1927ء، 1934ء، امریکہ کا چین پر قبضہ۔
1932ء، ایل سلواڈور پر حملہ
1937ء نکاراگوا پر حملہ

1945ء، میں جب عالمی جنگ ختم ہوچکی تھی، امریکہ نے جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر بمباری کی۔ ان دو ایٹم بم دھماکوں کے نتیجے میں تقریباً 220,000 افراد ہلاک ہوئے۔ بمباری کے دوران 100,000 سے زیادہ لوگ فوری طور پر ہلاک ہوئے اور باقی 1945ء کے آخر تک تابکاری کے تباہ کن اثرات کی وجہ سے مر گئے۔
1947ء، 1949ء، یونان پر حملہ
1948ء، 1953ء، فلپائن پر حملہ
1948ء، فلسطین پر قبضہ کرنے اور 68 سالوں کے دوران اسلامی ممالک میں اس حکومت کے جرائم کی تصدیق کے لیے اسرائیل کی سرکاری حمایت۔
1950ء، پورٹو ریکو پر حملہ
1950ء، 1953ء، کوریا پر حملہ
1958ء، لبنان
1958ء، پانامہ کے ساتھ جنگ

1959ء، امریکی فوجی لاؤس میں داخل ہوئے۔
1959ء، ہیٹی پر حملہ
1960ء، ایکواڈور میں امریکی فوجی آپریشن
1960ء، پانامہ پر حملہ
1965ء، 1973ء، ویتنام پر خونریز حملہ
1966ء، گوئٹے مالا پر حملہ
1966ء، فلپائن کے خلاف انڈونیشیا کی فوجی حمایت
1971ء، 1973ء، لاؤس میں بمباری۔
1972ء، نکاراگوا پر حملہ
1980ء، 1988ء، 8 سالہ ایران عراق جنگ میں براہ راست اور بالواسطہ فوجی مداخلت
1980ء، طبس میں ایران کے خلاف فوجی آپریشن

1983ء، گریناڈا میں فوجی مداخلت
1986ء، لیبیا پر حملہ اور لیبیا پر بمباری۔
1988ء، ہونڈوراس پر امریکی حملہ
1988ء، ایرانی مسافر طیارے پر حملہ اور اس میں سوار تمام 290 افراد کا قتل عام۔
1989ء، ورجن جزائر میں فسادات کو دبانے کے لئے فوجی مداخلت
1991ء، عراق میں بڑے پیمانے پر فوجی آپریشن (پہلی خلیج فارس جنگ)
1992ء، 1994ء، صومالیہ پر قبضہ اور اس ملک کے شہریوں کے خلاف شدید تشدد۔
1998ء، سوڈان پر حملہ۔
1999ء، امریکہ نے نیٹو کی آڑ میں یوگوسلاویہ کے خلاف جنگ شروع کی۔ اس ملک پر بمباری 78 دن تک جاری رہی اور یوگوسلاویہ ٹوٹ گیا۔

2001ء، القاعدہ گروپ کا پیچھا کرنے کے بہانے افغانستان پر حملہ اور قبضہ، جو بعد میں ثابت ہوا کہ ان تکفیریوں کو خود امریکیوں نے لیس کیا تھا!!!
2003ء، اقوام متحدہ کی اجازت کے بغیر عراق پر حملہ اور قبضہ
2011ء، میں قذافی کا تختہ الٹنے کے بعد لیبیا پر حملہ
2011ء، شامی عوام کی منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کے مقصد سے شام میں دہشت گرد مسلح گروہوں کی سرکاری حمایت۔
2011ء، بحرین میں عوامی بغاوت کو دبانے میں آل خلیفہ حکومت کی سرکاری حمایت کا اعلان۔
2015ء، یمنی انقلاب کے خلاف اس ملک کی جنگ میں آل سعود کی سرکاری حمایت کا اعلان اور فوجی۔

اسی لئے تو رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ فلسطینی مجاہدین کو دہشت گرد کہنا مغربی رہنماؤں اور ذرائع ابلاغ کی بے غیرتی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ جو اپنے گھر اور وطن کا دفاع کر رہا ہے، وہ دہشت گرد ہے؟ دوسری عالمی جنگ میں جرمنوں نے پیرس پر قبضہ کر لیا تھا، اس وقت جرمنوں کے خلاف جنگ کرنے والے فرانسیسی دہشت گرد تھے؟ وہ تو جانباز اور فرانس کے لئے باعث افتخار ہیں، لیکن جہاد اسلامی اور حماس کے جوان دہشت گرد ہیں۔؟

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular